ہماری سپورٹ جمہوری طور پر منتخب حکومت کیساتھ ہے: ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: (پاکستان فوکس آن لائن) ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جان لے فوج غیر جانب دار ادارہ ہے سڑکوں پر آکر اس طرح الزام تراشی کرنا اچھا فعل نہیں، امن و امان کا مسئلہ ہوا تو حکومتی فیصلے پر قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ہماری سپورٹ جمہوری طور پر منتخب حکومت کیساتھ ہے، کسی کوبھی کسی صورت ملکی استحکام خراب کرنےکی اجازت نہیں دینگے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر انتشار ہوتا ہے تو یہ ملک کے مفاد میں نہیں۔ اس وقت ملک کسی فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور کا کہا تھا کہ فضل الرحمن سینئر سیاستدان ہیں، مولانا بتا دیں کہ وہ کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں، مولانا کا مخاطب الیکشن کمیشن ہے، عدالت یا فوج؟ مولانا کو وضاحت کرنا ہو گی کہ وہ کس ادارے کی بات کر رہے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوج ایک غیر جانبدار ادارہ ہے۔ پاک فوج کی حمایت جمہوری طور پر منتخب حکومت کیساتھ ہوتی ہے۔ جمہوری مسائل جمہوری طریقے سے ہی حل ہونا چاہئیں۔ حکومتی اور اپوزیشن کمیٹیاں بہتر کوآرڈینیشن کے طور پر چل رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، امید کرتے ہیں معاملات بہتر انداز میں آگے چلیں گے۔ پاکستان نے گزشتہ 20 سال میں بہت مشکل وقت گزارا ہے، جان و مال کی قربانی دے کر ملک میں امن قائم کیا گیا ہے۔ کے پی کے کی عوام کو فلاح و بہبود کی ضرورت ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ مشرقی اور مغربی سرحد پر فوج مصروف ہے۔ بھارت نے جارحیت کی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ایل او سی پر دشمن معصوم کشمیریوں کو شہید کر رہا ہے، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر کشیدگی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اور ظلم جاری ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان قوم اور افواج نے دہشتگردی کا مقابلہ کیا، جانیں دے کر امن حاصل کیا گیا۔الیکشن کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 2018ء کے الیکشن کے دوران پاک فوج نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی۔ ایک سال گزر گیا اپوزیشن اب بھی متعلقہ اداروں میں جا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *