‘جو لوگ 40 سال سے برسر اقتدار رہے پہلے ان کا احتساب ضروری ہے

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) چیئرمین نیب نے کہا ہے کہ جو لوگ 40 سال سے برسر اقتدار رہے پہلے ان کا احتساب ضروری ہے، کبھی فیس نہیں، ہمیشہ کیس کو دیکھا ہے، نیب کا کسی سے جائیداد کا تنازع نہیں ہے۔
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا پروڈکشن آرڈر پر باہر آنیوالے کہتے ہیں سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے، نیب کسی قسم کے سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتا، سیاسی انتقام کا سوال کبھی پیدا ہوا نہ ہوگا، سیاسی انتقام ثابت کریں، کوئی سیاسی ملاقات ثابت کریں، نیب چھوڑدوں گا، یہ نعرہ لگانا بہت آسان ہے کہ نیب انتقامی کارروائی کر رہا، اخبار میں بہت بار پڑھا کہ نیب پولیٹیکل انجینئرنگ کر رہا ہے، پولیٹیکل انجینئرنگ کا تو مطلب ہی مجھےاب پتہ چلا ہے۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا 35 سال سے برسر اقتدار رہنے والوں کا حساب پہلے ضروری ہے، مہینوں سے برسر اقتدار کا بھی احتساب ہو رہا ہے، تمام انکوائریوں کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، نیب کیلئے سب برابر ہیں چاہے وہ برسراقتدار ہیں یا نہیں، ہم نے فیس نہیں کیس دیکھا ہے، 80 یا 90 کی دہائی میں موٹر سائیکل والوں کے آج دبئی میں ٹاور ہیں، کروڑوں اور اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی ہے، چند لوگوں کو اکٹھا کر کے وی کا نشان بنانے سے کوئی معصوم نہیں ہو جاتا۔
چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ ہمارا کام سزا دینا نہیں، شہادتیں عدالتوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں، سزا دینا عدالتوں کا کام ہے، وائٹ کالر کرائم میں زیادہ محنت کی ضرورت ہے، لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ایسےلوگوں سے پوچھ گچھ ہوگی، شہادتیں موجود ہونے کے بعد کیا نیب آنکھیں بند کر لے گا ؟ وائٹ کالر اور عام کرائم میں زمین آسمان کا فرق ہے، جو کرے گا وہ بھرے گا یہ نیب کی بنیادی پالیسی ہے، کسی بیوروکریٹ کی آج تک کوئی شکایت نہیں آئی۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ یہاں آپ کو ہر موڑ پر ڈکیت ملیں گے، سپریم کورٹ سے فارغ ہو کر ڈی ایچ اے میں سرمایہ کاری کی، سرمایہ کاری کے بعد پتہ چلا ڈی ایچ اے نے ابھی زمین ہی نہیں خریدی، ادارے نے رابطہ کر کے کہا آپ کے پیسے واپس کر دیں گے، نیب کی وجہ سے آج لوگوں کو رقوم مل رہی ہیں، کسی ادارے نے متاثرین کی مدد نہیں کی، سی ڈی اے صحیح کام کرتا تو لوگ اتنی سرمایہ کاری نہ کرتے، نیب واحد ادارہ ہے جو لوگوں کی رقوم واپس دلا رہا ہے، غیر قانونی سوسائٹیوں کی نشاندہی سی ڈی اے کا کام تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *