پاک فوج کے بہادرسپوت کیپٹن کرنل شیرخان نشان حیدرکا 21 واں یوم شہادت

دشمن پر اپنی دھاک بٹھانے والے فوجی جوان کو بہادی کے اعزاز میں نشان حیدر سے نوازا گیا

لاہور: (پاکستان فوکس آن لائن)پاک فوج کے بہادر سپوت اور معرکہ کارگل کے ہیرو کیپٹن کرنل شیرخان شہید کا آج 21واں یوم شہادت منایا جارہا ہے۔کیپٹن کرنل شیرخان شہید 1970 کو صوابی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین نے پاک فوج کی محبت میں ان کا نام ہی کرنل شیر خان رکھ دیا۔گورنمنٹ کالج صوابی سے انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ائیرمین کے طور پر پاکستان ائیر فورس میں خدمات پیش کیں۔1994میں انہوں نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔کرنل شیرخان شہید کے چہرے پہ ہمیشہ ایک فوجی کی مسکراہٹ رہتی تھی جس کی وجہ سے شیرا کے لقب سے مشہور تھے۔
صوابی کے اس شیردل جوان نے 1999ء میں کارگل کے محاذ پردشمن کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ وطن پرجان نچھاور کرنے پرکرنل شیرخان کو نشان حیدرسے بھی نوازا گیا تھا۔1999 کی کارگل جنگ کے دوران جب ٹائیگر ہل کے محاذ پرپاکستانی فوج کے کپتان کرنل شیرخان نے اتنی بہادری کے ساتھ جنگ کی کہ بھارتی فوج نے بھی ان کی شجاعت کا اعتراف کیا۔ کارگل کے مشکل ترین معرکے پرکیپٹن کرنل شیرخان شہید نے سرفروشی کی لازوال داستان رقم کی، ان کی اس قربانی پر پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔
شہادت کے وقت دشمن بھارتی فوج نے انہیں گھیرلیا اور ہتھیار ڈالنے کا کہا لیکن انہوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ ان کی شجاعت کا اعتراف بھارتی فوج نے بھی کیا۔معرکہ کارگل میں دشمن پر اپنی دھاک بٹھانے اور ہیبت طاری کر دینے والے 29سالہ فوجی جوان کو بہادی کے اعزاز میں نشان حیدر سے نوازا گیا۔ہنس مکھ کرنل شیرخان اپنی طنزومزاح کی عادت کے باعث دوستوں میں بہت مقبول تھے اوراپنی بہادری کی وجہ سے آج بھی وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *