برطانوی پارلیمنٹ میں بریگزٹ بل منظور، یورپی یونین سے اخراج کی راہ ہموار

لندن: (پاکستان فوکس آن لائن) برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کی راہ ہموار ہوگئی، وزیراعظم بورس جانسن کا یورپی یونین سے اخراج کا بل آخر کار برطانوی دارالعوام سے منظور ہوگیا۔بریگزٹ بل پر برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (دارالعوام) میں ہونے والی رائے شماری میں 330 اراکین نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 231 ارکین نے مخالفت کی۔
بریگزٹ بل کو مزید اسکروٹنی کے لیے دارلامراء بھیج دیا گیا ہے جہاں سے منظوری کی صورت میں ملکہ برطانیہ کی توثیق حاصل کی جائے گی اور ممکنہ طور پر برطانیہ 31 جنوری تک یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائےگا۔
دسمبر 2019 کو برطانیہ کے تاریخی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرانے والی جماعت کنزرویٹو پارٹی کے رکن اور موجودہ وزیراعظم بورس جانسن نے انتخابات میں کامیابی کے بعد کہا تھا کہ عوام نے یہ مینڈیٹ یورپی یونین سے نکلنے کےلیے دیا ہے اس لیے برطانیہ آئندہ ماہ یورپی یونین چھوڑ دے گا۔برطانیہ میں گزشتہ 5 سال کے دوران یہ تیسری مرتبہ عام انتخابات ہوئے تھے۔
برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اس سے نکل جانے کے حوالے سے 23 جون 2017 کو ریفرنڈم ہوا تھا جس میں بریگزٹ کے حق میں 52 فیصد جب کہ مخالفت میں 48 فیصد ووٹ پڑے تھے جس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا، کیوں کہ وہ بریگزٹ کے مخالف تھے۔
ڈیوڈ کیمرون کے استعفے کے بعد برطانیہ کی وزیراعظم بننے والی ٹریزا مے نے جولائی میں بریگزٹ ڈیل کی پارلیمنٹ سے منظوری میں ناکامی کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور ان کے بعد بورس جانسن نے عہدہ سنبھالا تھا۔وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی بورس جانسن نے کہا تھا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو برطانیہ 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائے گا تاہم وہ اس میں ناکام ہو چکے ہیں۔
برطانوی پارلیمنٹ دو مرتبہ بورس جانسن کے منصوبے کو ناکام بنا چکی ہے جس پر انہوں نے ملکہ برطانیہ سے پارلیمنٹ کو معطل کرنے کی منظوری بھی لی تھی جس کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
بعد ازاں یورپی یونین نے معاہدے کا وقت دیتے ہوئے 31 جنوری تک توسیع کی منظوری دی ہے جس کو بورس جانسن نے قبول کرتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا تھا۔بریگزٹ ڈیل میں سب سے اہم معاملہ برطانوی شمالی آئرلینڈ اور یورپی یونین کے رکن ملک آئرلینڈ کے درمیان کسٹم قوانین کا ہے جس پر برطانوی سیاسی جماعتوں میں اختلافات رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *