برطانوی انتخابات، بڑی تعداد میں پاکستانی نژاد امیدواروں کی جیت کا امکان

لندن: (پاکستان فوکس آن لائن)برطانیہ میں آج سے انتخابات ہو رہے جہاں 650 نشستوں کے لیے 3 ہزار 322 امیدوار میدان میں اتریں گے۔لیبر پارٹی نے 33 مسلم امیدواروں کوٹکٹ دیئے جب کہ کنزرویٹو پارٹی نے 22 مسلمانوں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔پولنگ کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے ہوا جو رات 3 بجے تک جاری رہے گا۔ برطانیہ کے 4 کروڑ 60لاکھ ووٹر انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔برطانیہ میںانتخابات کے نتائج سے بریگزٹ کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔
برطانیہ میں عام انتخابات عموماً 5 سال بعد ہوتے ہیں لیکن آج ہونے والے انتخابات گذشتہ 5 سال کے دوران ہونے والے تیسرے الیکشن ہیں۔ 2017 کے الیکشن کے بعد یہ انتخابات 2022 میں ہونا تھے لیکن 30 اکتوبر 2019 کو برطانوی پارلیمنٹ نے اکثریتی ووٹوں سے نئے انتخابات کی منظوری دی تھی۔ نئے الیکشن کے لیے ووٹنگ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی درخواست پرکی گئی، کیونکہ انہیں امید ہے کہ نئے انتخابات کے ذریعے انہیں عوام دوبارہ زیادہ مینڈیٹ دیں گے جس کے ذریعے وہ بریگزٹ ڈیل اور پارلیمانی ڈیڈلاک کو ختم کر سکیں گے۔
برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات میں مسلمان ووٹرز کا بھی اہم کردار ہوگا، 30 لاکھ سے زائد برطانوی مسلمان، عیسائیوں کے بعد برطانیہ کی دوسری بڑی مذہبی برادری ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ان عام انتخابات میں پہلی بار بڑی تعداد میں مسلمان امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں اور امید ہے کہ پہلے سے زیادہ تعداد میں مسلمان امیدوار دارالعوام میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق نتائج جمعے کی صبح آنا شروع ہو جائیں گے۔ ووٹنگ کےدوران پولنگ اسٹیشن کے اندر سیلفی اور فوٹو لینے پر پابندی ہو گی۔انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی، لیبر پارٹی، لبرل ڈیموکریٹس، گرین پارٹی، اسکاٹش نیشنل پارٹی اور ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی اہم سیاسی جماعتیں ہیں۔ تاہم اصل مقابلہ دو بڑی جماعتوں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی اور اپوزیشن لیڈر جیریمی کوربن کی لیبر پارٹی کے درمیان ہوگا۔
برطانیہ میں آج ہونے والے انتخابات گذشتہ 5 سال کے دوران ہونے والے تیسرے الیکشن ہیں۔ نئے الیکشن کے لیے ووٹنگ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی درخواست پرکی گئی۔ انہیں امید ہے کہ نئے انتخابات کے ذریعے انہیں عوام دوبارہ زیادہ مینڈیٹ دیں گے جس کے ذریعے وہ بریگزٹ ڈیل اور پارلیمانی ڈیڈلاک کو ختم کر سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *