عالمی ورثوں کی فہرست میں کوئی پاکستانی مقام شامل نہ کیا جا سکا

میانمار کے شہرباگان کو بھی عالمی ورثے میں شامل کرلیاگیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک)قوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’یونائٹڈ نیشنز ایجوکیشنل، سائنٹفک اینڈ کلچرل آرگنائیزیشن‘ (یونیسکو) کے 43 ویں سالانہ اجلاس میں پاکستان کے کسی بھی تاریخی مقام کو عالمی ورثے میں شامل نہیں کیا جا سکا۔یونیسکو کے ہونے والے سالانہ اجلاس میں اس بار مجموعی طور پر 29 نئے مقامات کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔
تاریخی مقامات کو عالمی ورثے میں شامل کرنے سے متعلق یونیسکو کا 43 واں اجلاس آذربائیجان کے شہر باکو میں 30 جون سے 10 جولائی تک جاری رہا، جس میں دنیا بھر کے درجنوں مقامات کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے سے متعلق فیصلہ کیا گیا۔10 روزہ اجلاس میں مجموعی طور پر 29 مقامات کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی، جس کے بعد عالمی فہرست میں شامل مقامات کی تعداد 1121 ہوگئی۔ یونیسکو کے اعلامیے کے مطابق اس عالمی ورثے کی فہرست میں دنیا بھر کے 167 ممالک کے 1121 مقامات شامل ہیں اور اس میں نئے شامل کیے جانے والے مقامات بھی شامل ہیں۔

تاریخی مقامات کوعالمی ورثے میں شامل کرنے سے متعلق اگلا اجلاس چین میں ہوگا

اس بار بھارت، میانمار اور عراق کے پورے شہروں کو عالمی ورثے کی فہرست بنایا گیا جب کہ مجموعی طور پر اس بار ایشیا کے 10 مقامات کو فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔یونیسکو نے 8 جولائی تک 29 مقامات کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کی مںظوری دی تھی اور خیال کیا جا رہا تھا کہ اجلاس کے اختتام تک مزید 10 مقامات کو بھی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
تاہم یونیسکو نے مزید نئے مقامات کو فہرست میں شامل کرنے کی منظوری نہیں دی۔یونیسکو کے مطابق تاریخی مقامات کو عالمی ورثے کی فہرست بنانے سے متعلق آئندہ اجلاس فوژو میں ہوگا۔

جے پور کے پورے شہر کو عالمی ورثے میں شامل کیا گیا

 

اس بار بھارت کے شہر جے پور، عراق کے شہر بابل اور میانمار کے شہرباگان سمیت چین، جاپان، مکدونیا، کینیڈا، جنوبی کوریا، ایران، جرمنی، اٹلی، امریکا، پولینڈ، انڈونیشیا، آسٹریلیا، بحرین، برکینا فاسو، برازیل، آئس لینڈ، فرانس اور میکسیکو کے مقامات کو شامل کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ عالمی ورثے کی فہرست میں شامل 1121 مقامات میں سے دنیا بھر کی 53 عمارتیں یا مقامات ایسے ہیں جنہیں ’خطرے سے لاحق قرار دیا گیا ہے اور اب اسی کیٹیگری سے فلسطین کے تاریخی چرچ نیٹویٹی کو نکال دیا گیا ہے، کیوں کہ اس چرچ کی تعمیر کی گئی ہے۔علاوہ ازیں جنوبی امریکی ملک چلی کے ایک مقام کو بھی ’خطرے سے لاحق‘ کی کیٹیگری سے خارج کردیا گیا۔
یونیسکو کی عالمی فہرست میں شامل 1121 مقامات میں سے صرف 6 پاکستانی مقامات ہیں، خیال کیا جا رہا تھا کہ رواں برس پاکستان کے مزید نئے مقامات کو عالمی ورثے کا حصہ بنایا جائے گا۔عالمی ورثے میں پاکستان کے ’ موئن جو دڑو، ٹیکسلا، تخت بائی کے بدھ آثار، شاہی قلعہ اور شالا مار باغ، مکلی کا قبرستان اور قلعہ روہتاس‘ کے مقام شامل ہیں۔

قلعہ روہتاس سمیت پاکستان کے 6 مقامات عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *