نیوزی لینڈ: دو مساجد پر فائرنگ، 49 افراد جاں بحق متعدد زخمی، بنگلادیشی کھلاڑی بال بال بچ گئے

کرائس چرچ:(پاکستان فوکس آن لائن) نیوزی لینڈ میں نامعلوم ملزمان نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے دو مساجد میں موجود افراد پر فائرنگ کرکے کم ازکم 49 افراد کو جاں بحق اور متعدد کو زخمی کردیا ہے۔نیوزی لینڈ پولیس کے کمشنر مائیک بش نے کہا ہے کہ 4 افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن میں تین مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملہ آوروں نے ایک اسپتال کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔پولیس کمشنر کے مطابق حملہ آور نے فوج کی وردی پہن رکھی تھی۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک حملہ آور کے ہیلمٹ پر کیمرہ نصب تھا جس کے ذریعے وہ قتل و غارت گری کی ویڈیو براہ راست سوشل میڈیا پر نشر کررہا تھا۔خبررساں ایجنسی کے مطابق نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم بھی مسجد کے قریب ہی موجود تھی لیکن اس کے کھلاڑیوں نے بھاگ کر جان بچائی۔عالمی میڈیا کے مطابق حملہ آوروں نے النورمسجد اور لِین وڈ میں واقع مسجد کے نمازیوں کونشانہ بنایا۔ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ دوسرا حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ مشین گن سے کی گئی ہے۔ عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملہ آور کی عمر 30 سے 40 سال کے درمیان معلوم ہوتی ہے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق شہر میں ہنگامی حالت کا نفاذ کردیا گیا ہے اورلوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔عالمی خبررساں ایجسی کے مطابق علاقہ پولیس نے مساجد کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ کرائسٹ چرچ میں دفاتر اور گرجا گھروں کو بند کردیا گیا ہے۔ پولیس نے شہر کی دیگر مساجد کو بھی حفظ ماتقدم کے طور پر خالی کرالیا ہے۔نیوزی لینڈ کی خبررساں ویب سائٹ ’Stuff.nz‘ کے مطابق ایک حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ کینٹربری ڈسٹرکٹ ہیلتھ بورڈ کے تحت بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے نمٹنے کا منصوبہ عمل میں لایا چکا ہے۔نیوزی لینڈ نے سرکاری سطح پر تاحال زخمیوں کی تعداد کے متعلق کچھ نہیں بتایا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی ‘ کے مطابق ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جو مبینہ طور پر حملہ آور کی بنائی ہوئی ہے۔ اس میں اسے لوگوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔نیوزی لینڈ ہیرالڈ کو ابراہیم نامی شخص نے بتایا ہے کہ ہمیں لگا کہ کوئی بجلی کا جھٹکہ ہے مگر پھر سب اچانک بھاگنے لگے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے دوست ابھی تک اندر ہیں۔ابراہیم کے مطابق وہ دوستوں سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کئی لوگوں سے ان کا رابطہ نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے سانحہ پر دکھ اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔نیوزی لینڈ میں پاکستان کے سفیرعبدالمالک نے کہا ہے کہ ہم پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی پاکستانی کے زخمی ہونےکی اطلاع نہیں ملی۔

حملہ آور کی لائیو ویڈیو سے حاصل کردہ تصاویر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *