عراق میں مشتعل شہریوں کا ایرانی قونصل خانے پر دھاوا،مظاہرین نے نجف میں ایرانی قونصل خانے کو آگ لگادی

عراق میں حالت مسلسل بگڑتے جارہے ہیں جہاں تازہ واقعے میں نجف میں مشتعل شہریوں نے ایرانی قونصل خانے پر دھاوا بول دیا مظاہرین نے نجف میںایرانی قونصل خانے کو آگ لگادی۔ایرانی سفارتکار بحفاظت باہرنکلنے میں کامیاب ہوگئےجبکہ حکام نے نجف میں کرفیو نافذکردیا۔
عراق میں حکومت کی معطلی اور ملک میں معاشی اصلاحات کے لیے عوام کا احتجاج مسلسل جاری ہے ، سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مختلف علاقوں میں کم ازکم 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔غیر ملکی خبر ایجنسی ‘کے مطابق مظاہرین نے جنوبی عراق میں ٹائر نذر آتش کیے اور سڑک کو بلاک کردیا جس کے نتیجے میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئی۔رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے کربلا میں دو افراد، بغداد میں دو افراد اور پانچواں شہری بصرہ میں احتجاج کے دوران جاں بحق ہوگیا۔بصرہ میں مظاہرین نے مختلف سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے سرکاری افسران کو دفاتر تک پہنچنے سے روک دیا جہاں چند روز قبل سیکیورٹی فورسز کا نشانہ بننے والے نوجوان کے رشتہ دار بھی احتجاج کررہے تھے۔عراق میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف گزشتہ ماہ احتجاج شروع ہوا تھا جس میں اکثریت نوجوانوں کی تھی جو مسلسل دوسرے مہینے بھی حکومت کا خاتمہ اور معاشی اصلاحات کے مطالبے پر قائم ہیں۔اتحادیوں کی حمایت سے قائم حکومت کے عراقی وزیراعظم نے مظاہرین کو اصلاحات کی یقین دہائی کروائی تھی جس کو مظاہرین نے مسترد کرتے ہوئے حکومت میں موجود تمام سیاست دانوں کو کرپٹ قرار دیا تھا اور ان کا مطالبہ تھا یہ تمام سیاست دان کنارہ کش ہوں۔احتجاج میں شامل نوجوان بے روزگار انجینئر علی نصیر کا کہنا تھا کہ ‘سب سے پہلے ہم اصلاحات اور کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن حکومت نے پرامن مظاہرین کو مارنا شروع کردیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اب ہم کرپٹ حکمران طبقے سمیت ان کے خاتمے سے قبل یہاں سے نہیں جائیں گے’۔حکومتی وعدوں پر میڈیکل کی طالبہ عالیہ کا کہنا تھا کہ ‘اصلاحات کی صرف باتیں ہیں، ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں، ہمارے 16 برس سے صرف الفاظ ہیں جو بغیر اقدامات ہی جاری ہیں، ہمیں 16 برس سے لوٹا جارہا ہے’۔
عراق میں 22 نومبر کو بھی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 4 مظاہرین جاں بحق ہوگئے تھے اور رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ مظاہروں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 340 سے تجاوز کر گئی ہیں۔عراق میں یکم اکتوبر ملک میں کرپشن اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا جو بعد ازاں خون ریزی کا شکار ہوا تھا اور سیکڑوں افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔شہریوں کی جانب سے شروع ہونے والے احتجاج میں نوجوان طلبہ سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی حصہ لیا جس کے نتیجے میں حالات مزید کشیدہ ہوچکے ہیں۔اکتوبر کے اوائل میں ہی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بدترین کارروائیاں کی گئی تھیں اور 149 مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *