ڈونلڈ ٹرمپ کا افغانستان کا اچانک دورہ، افغان صدرسے ملاقات

کابل: (پاکستان فوکس آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں بگرام ایئرفیلڈ کا اچانک دورہ کیا جہاں انہوں نے امریکی فوجیوں اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ ملاقات کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی تہوار تھینکس گیوِنگ کے موقع پر اچانک افغانستان پہنچے جہاں انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا کی طویل جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان جنگ بندی پر رضامند ہوجائیں گے۔خیال رہے کہ منصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ افغانستان ہے اور اس سے ایک ہفتہ قبل ہی طالبان اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا۔امریکی صدر کا دورہ افغانستان سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر خفیہ رکھا گیا تھا، جہاں پہنچنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’طالبان معاہدہ کرنا چاہ رہے ہیں اس لیے ہم ان سے ملاقات کررہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں امریکا کے سب سے بڑے فضائی اڈے بگرام ایئر فیلڈ کا دورہ کیا اورامریکی فوجیوں سے ملاقات کی۔ دورے کے دوران امریکی صدر نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ بھی ملاقات کی۔
اس موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ طالبان کےساتھ امن مذاکرات جاری ہیں اور معاہدے کے لیے بات چیت کررہے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ طالبان بھی جنگ بندی معاہدہ چاہتے ہیں اور اب وہ بھی سمجھتے ہیں کہ مسئلہ اسی طرح حل ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے کہا افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 13 ہزار سے کم کرکے 8600 کرنے کا منصوبہ ہے۔
امریکی صدر کاطیارہ جمعرات کی شام جب بگرام ایئرفیلڈ پر اترا تو ان کے ہمراہ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی مشیر رابرٹ او برائن اور سیکریٹ سروس ایجنٹس کے اہلکاروں کا مختصر گروپ بھی تھا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر بننے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔اس موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے بھی ملاقات کی اور امریکی فوجیوں کے ساتھ ڈنر بھی کیا۔ انہوں نے وہاں تعینات امریکی فوجیوں کے ساتھ بات چیت کی اور تصاویر بھی کھنچوائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *