او آئی سی نے فلسطین کا معاملہ مسلم امہ کا بنیادی مسئلہ قرار دے دیا

دنیا کے کئی حصوں میں اسلامو فوبیا کا بڑھتا رجحان تشویش ناک ہے

مکہ المکرمہ: (پاکستان فوکس آن لائن)اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے فلسطین کے معاملے کو مسلم امہ کا بنیادی مسئلہ قرار دے دیا۔سعودی عرب میں ہونے والے او آئی سی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا ہےکہ فلسطین مسلم امہ کا بنیادی مسئلہ ہے، عالمی قراردادوں کے مطابق فلسطین سے اسرائیلی قبضہ ختم کرایا جائے، مقبوضہ بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہے، آزاد اور خودمختار ریاست میں زندگی بسر کرنا فلسطینیوں کا حق ہے۔اسلامی ممالک کی تنظیم (اوآئی سی)نے کہا ہے کہ دنیا کے کئی حصوں میں اسلامو فوبیا کا بڑھتا رجحان تشویش ناک ہے ،نسل پرستی اور مذہبی تعصب دنیا کے مختلف حصوں میں مسلسل بڑھ رہا ہے ،مذہبی عدم تشدد کے واقعات میں اضافہ اسکا واضح ثبوت ہے۔ او آئی سی کی طرف سے14ویں سربراہ کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی ہے اور اس کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیاہے جسے ’’مکہ اعلامیہ‘‘ کا نام دیا گیاہے ۔او آئی سی کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیاہے کہ منفی دقیانوسیت، اورمسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشددمیں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلامو فوبیا کا بڑھتا رجحان تشویش ناک ہے۔او آئی سی اجلاس میں امریکہ کی طرف سے سفارتخانہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کے اقدام کی بھی مذمت کی گئی ۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ یہ بہت بڑا المیہ ہے کی پوری دنیا میں سب سے زیادہ پناہ گزین مسلمان ہیں۔ پناہ گزینوں‌ کی تعداد میں اضافے کی وجہ مسلمان ملکوں میں جاری شورش ہے۔سعودی عرب کے فرمان روا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے مکہ معظمہ میں‌ اسلامی سربراہی اجلاس سے خطاب میں‌ علاقائی اور عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم’او آئی سی’ کے ڈھانچے کی تشکیل نو کی ضرورت پر زور دیا۔سعودی فرمانروا کا کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مکہ مکرمہ میں مسلم دنیا کی قیادت کا خیر مقدم کرتے ہیں، سربراہ اجلاس سلامتی اور استحکام کی نوید ثابت ہوگا۔خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا امید ہے کہ کانفرنس میں شریک مسلمان ممالک کے عوام کی خوش حالی اور ترقی کے لیے یہ اجلاس اہم ثابت ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ خطرات کا مقابلہ کرکے ہی اپنے ملکوں میں ترقی لاسکتے ہیں۔ اس موقع پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مختلف امور پر مسلم دنیا میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے کہا کہ ہم اپنے عوام کے مستقبل کی تعمیر کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں، ہمیں مختلف خطرات سے مل کر نمٹنا ہوگا، اسلامی دنیا میں امن واستحکام چاہتے ہیں۔شاہ سلمان نے کہا کہ اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کا سربراہ اجلاس عالم اسلام کی امنگوں کا ترجمان ثابت ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ان کی پہلی ترجیح ہے اور عالم اسلام مقبوضہ بیت المقدس کے تاریخی اور قانونی تشخص کو نقصان پہنچانے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ حل سعودی عرب کی پہلی ترجیح ہے۔ ہم اس وقت تک فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کی حمایت جاری رکھیں گے جب تک انہیں منصفانہ طریقے سے ان کے حقوق فراہم نہیںکر دیے جاتے۔شاہ سلمان نے بیت المقدس کے تقدس کو نقصان پہنچانے کی تمام کوششوں کو مسترد کردیا ہے اور کہا کہ عالم اسلام القدس کو نقصان نہیں پہنچنے دیگا۔انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں تیل بردار جہازں پر حملے کر کے عالمی جہاز رانی میں رکاوٹ اور دُنیا کو توانائی کے حصول سے محروم کرنے کی مجرمانہ کوشش کی گئی۔ سعودی فرمانروا نے دہشت گردوں اور ان کے مالی سرپرستوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا مطالبہ کیا۔اجلاس سے خطاب میں ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوگلو نے کہا کہ القدس اور فلسطینیوں کے خلاف گہری سازشیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اسلامی سربراہ اجلاس کی سعودی عرب کو میزبانی دیے جانے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ توقع ہے کہ سعودی عرب مسلم امہ کے مسائل کے حل میں اپنا جوہری کردار ادا کرے گا۔ انہوں‌ نے کہا کہ مسئلہ فلسطین سے متعلق تاریخ کی کتاب دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ترکی القدس اور فلسطینی پناہ گزینوں‌ کے تحفظ کے لیے قراردادیں پیش کرے گا۔اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے تنظیم کے سیکرٹری جنرل یوسف العثیمین نے کہا کہ ‘مسئلہ فلسطین’ او آئی سی کےایجنڈے میں سرفہرست ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ مسلم مماک کی نمائندہ تنظیم نے اپنے قیام کے 50 سالہ سفرمیں حق وصداقت اور انصاف ورواداری کے لیے آواز بلند کی ہے۔وزیراعظم عمران خان اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے 14ویں اجلاس میں شرکت کے لیے کانفرنس ہال پہنچے توسعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے وزیراعظم عمران خان کا خیر مقدم کیا۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے خوشگوار ماحول میں مختصر گفتگو بھی کی۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان بھی ملاقات ہوئی، ملاقات میں خطے کی مجموعی اور عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں دونوں ممالک کا مختصر وفد بھی شامل رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *