پارک لین ریفرنس، آصف زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی پھر موخر

احتساب عدالت نے فردجرم کی کارروائی موخر کرتے ہوئے سماعت 14جولائی تک ملتوی کردی

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)پارک لین ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری پرفردجرم آج بھی عائد نہ ہوسکی ، کیس کی سماعت 14جولائی تک ملتوی کردی گئی ۔
تفصیلات کے مطابق پارک لین ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے کیس کی سماعت ہوئی ، اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے پارک لین ریفرنس کی سماعت کی جس سلسلے میں آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے اور سابق صدر کو بھی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرکے ان کی حاضری لگوائی گئی۔ اس موقع پر آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے سابق صدر پر فرد جرم عائد نہ کرنے کے لیے درخواست دائر کردی جس پرعدالت نے ایک بار پھر زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی مؤخر کردی جبکہ آئندہ سماعت پر آصف زرداری کی متفرق درخواست پر نیب جواب داخل کرے گا ۔
فاروق نائیک کے درخواست دائر کرنے پر جج اعظم خان نے کہا کہ آپ کو چاہیے تھا کہ یہ درخواست پہلے دائر کرتے، اب فرد جرم عائد کرنے کے لیے ویڈیو لنک کےانتظامات مکمل کرلیےگئے ہیں۔ فاروق نائیک کی درخواست پر ڈپٹی نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ آپ اس درخواست پر ہمیں نوٹس جاری کریں، ہم آج ہی آدھے گھنٹے میں بحث کریں گے۔
آصف زرداری کے وکیل نے کہا کہ پراسیکیوٹر کو اس کیس میں اتنی جلدی کیا ہے؟ اس کے علاوہ بھی بہت سے کیسز ہیں، اس کیس میں جلدی کیوں ہے؟ ہمیں مناسب وقت دیا جائے۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اب وکیل صفائی درخواست دائر کر کے خود تیاری کا وقت مانگ رہے ہیں، فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ آئندہ منگل کو کیس سماعت کےلئے رکھ لیں،مجھے ریسرچ کرنی ہے،جس پر جج اعظم خان نے کہا کہ آپ 9 جولائی کو پیش ہو جائیں، فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ 9جولائی کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیس ہے۔احتساب عدالت نے فردجرم کی کارروائی موخر کرتے ہوئے سماعت 14جولائی تک ملتوی کردی ۔
واضح رہے کہ پارک لین کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور انور مجید سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ میں کئی بار موخر کی گئی ہے جب کہ سابق صدر طبی بنیادوں پر ضمانت کے بعد کراچی میں موجود ہیں جہاں ان کا علاج کیا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *