قومی اسمبلی کا اجلاس: آرمی ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) قومی اسمبلی میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سروسز ایکٹ ترمیمی بلز کثرت رائے سے منظور کرلیے گئے۔اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ چیئرمین دفاعی کمیٹی امجد علی خان نےآرمی ایکٹ ترمیمی بل پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان بھی شریک ہوئے، اسمبلی آمد پر اراکین نے وزیراعظم سے ان کی نشست پر آکر مصافحہ کیا اور اس دوران مختلف امور پر مختصر گفتگو بھی ہوئی۔
پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلزپارٹی نے بل کی حمایت کی جبکہ جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے بل کی منظوری میں حصہ نہیں لیا۔تاریخ ساز قانون سازی کیلئے سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، پرویز خٹک نے پیپلز پارٹی سے بل کی ترمیم سے متعلق تجاویز واپس لینے کی درخواست کی جس پر پیپلز پارٹی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے لئے اپنی ترامیم واپس لے لیں۔
وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے پاک آرمی، پاک نیوی، پاک ایئر فورس ایکٹس میں ترامیم کے بلز کی شق وار منظوری لی۔ اسد قیصر بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا۔
خیال رہے گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سمیت تینوں مسلح افواج سے متعلق سروسز ایکٹ میں ترمیمی بلز متفقہ طور پر منظور کئے۔قائمہ کمیٹی دفاع کا اجلاس چیئرمین امجد علی خان کی زیر صدارت ہوا، وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت وزارت دفاع کے حکام نے شرکت کی، اجلاس کے دو سیشن ہوئے، پہلے سیشن کا ایجنڈا معمول کے امور پر تھا جبکہ دوسرے سیشن میں آرمی، نیوی اور ایئر فورس ایکٹس میں ترامیم کا معاملہ ان کیمرا زیر بحث آیا۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے تینوں بلوں کے پہلوؤں پر بریفنگ دی جس کے بعد تینوں بل متفقہ طور پر منظور ہوئے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے متفقہ طور پر بل منظور ہونے پر پوری قوم کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ ہم سب کا ملک ہے، فوج کیساتھ تمام جماعتیں اور پورا پاکستان کھڑا ہے۔وزیر قانون فروغ نسیم نے بتایا کہ اجلاس میں اپوزیشن کی طرف سے ترامیم پیش کی گئیں، اس پر انہیں وضاحت کی کہ اس کیلئے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی، اب یہ بل پارلیمنٹ میں جائے گا، اجلاس میں ایک بھی رکن نے مخالفت نہیں کی، اگر بل کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں میں سے کسی کا جائز پوائنٹ ہے تو اس کو لازمی سنیں گے، وزارت قانون تمام جماعتوں کی عزت کرتی ہے، پاکستان کی سکیورٹی اور اداروں کے حوالے سے ترامیم پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
چیئرمین کمیٹی امجد خان نیازی نے کہا ترمیمی بلز متفقہ طور پر منظور کرنے پر تمام جماعتوں کے شکر گزار ہیں، اپوزیشن کی پیش کردہ ترامیم سنی ہیں تاہم وہ مسودہ قانون کا حصہ نہیں، موجودہ صورتحال میں پوری دنیا کو پیغام دیا کہ جہاں قومی مفاد ہوگا وہاں ہم ایک ہیں، ہمارے نظریات مختلف ہو سکتے ہیں، ہر چیز پر سیاست نہیں ہوتی۔کمیٹی کے حکومتی رکن رمیش کمار نے میڈیا کو بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے بل کی مکمل حمایت کی، اجلاس میں مسلم لیگ ن کی جانب سے محمد خان ڈاھا، ریاض پیرزادہ، اعجاز الحق، پیپلز پارٹی کی جانب سے عامر مگسی، خورشید جونیجو اور آفتاب شعبان میرانی شریک ہوئے جبکہ جے یو آئی (ف) کے رکن صلاح الدین ایوبی نے شرکت نہ کی۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *