وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سیلابی ریلے کے باعث پھنس گئیں

چترال: (پاکستان فوکس آن لائن) وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان گولن گول میں گلیشئیر پگھلنے سے آنے والے سیلابی ریلے کے باعث پھنس گئی ہیںکمشنر مالاکنڈ ریاض محسود نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان متاثرہ گاؤں میں اپنی بیٹی کے ہاں آئی ہوئیں تھیں تاہم وہ مکمل محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ شندرور میلہ جانے والےراستے مکمل محفوظ ہیں اور ٹریفک رواں دواں ہے۔ سیلابی ریلے سے صرف دو دیہاتوں کا رابطہ منقطع ہوا ہے جبکہ ریلے سے کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ریاض محسود نے بتایا کہ بھاری مشینری اور ریسکیو ٹیمیں پہنچ چکی ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہمشیرہ کو ریسیکو کرنے کے لئے پاک فوج سے ہیلی کاپٹر کے لئے رابطہ کیا گیا ہے۔ ہیلی کاپٹر آتے ہی ریسکیو آپریشن شروع کر دیا جائے گا اور وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو ریسیکو کر دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ چترال کے کئی علاقہ جات میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے جبکہ گلیشئیرز پگھلنے کی وجہ سے بھی زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔

کمشنر مالا کنڈ نے کہا کہ شندورمیلہ کے لے آنے والے مہمانوں کے لئے کوئی پریشانی نہیں ہے۔متاثرہ جگہ اور میلہ کے درمیان کئی گھنٹوں کا فاصلہ ہے،راستے بند ہونے کی افواہوں پر سیاح کان نہ دھریں۔مقامی افراد نے نمائندہ ہم نیوز محمد اسلام کو بتایا کہ گلئیشر پھٹنے سے تین گھر وں کے ساتھ ساتھ دکانیں اور بجلی کے کھمبے بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔ مقامی آبادی نے محفوظ مقام منتقل ہونا شروع کردیاہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چترال اور اسکردو میں برفانی جھیلیں پھٹ سکتی ہیں مگر تا حال کوئی گلاف الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔چند ہفتوں میں گلاف (برفانی جھیل ) پھٹنے کے دو بڑا واقعات رونما ہوچکے ہیں جس سے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ پہلا واقعہ چند ہفتے پہلے ہنزہ ششپر گلشئیر اور دوسرا کل چترال گولن گول میں پیش آیا ہے۔این ڈی ایم اے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ جھیل پھٹنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ مقامی آبادی کو مالی نقصان پہنچا ہے۔ آج صورتحال کادوبارہ جائزہ لیا جائیگا۔چترال اور اسکردو میں متعدد برفانی جھیلیں پائی جاتی ہیں جنہیں خطرناک قرار دیا جاچکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *