بندوق والوں کے سامنے آئین کی کتاب پڑھنے والی بہادر لڑکی

مشرقی یورپ اور شمالی ایشیا کے سنگم پر واقع یوروشیائی ملک روس میں بندوق تھامے پولیس اہلکاروں کے سامنے آئین کی کتاب پڑھنے والی نوجوان لڑکی کو دنیا کے لوگ بہادر لڑکی قرار دے رہے ہیں۔
اولگا مسک کی پولیس کے سامنے آئین کی کتاب پڑھنے کی تصاویر دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئیں اور دنیا بھر میں ان کی تصاویر کو ہزاروں افراد نے شیئر کرتے ہوئے انہیں بہادر لڑکی قرار دیا۔بندوقیں تھامے اہلکاروں کے سامنے کتاب پڑھنے والی نوجوان لڑکی کو روس کی جمہوریت کا خوبصورت چہرا بھی قرار دیا گیا اور ان کے پرامن اور منفرد مظاہرے کی تعریف کی گئی۔
بلٹ پروف جیکٹ پہنے ایک نوعمر لڑکی روس کی پولیس فورس کے سامنے بیٹھی ہے۔اس کے ہاتھ میں روس کے آئین کی کتاب ہے جو اس نے اپنے ارد گرد موجود مسلح پولیس دستے کے سامنے اونچی آواز میں پڑھنا شروع کی۔ پولیس دستے کے پیچھے روس کے دارالحکومت ماسکو کی ڈوما اسمبلی یعنی شہری اسمبلی کے شفاف انتخابات کے مطالبے پر ایک مظاہرہ ہو رہا تھا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔یہ تصویر چند منٹوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور سترہ سالہ اولگا میسک روس کی جمہوریت پسند تحریک کا چہرہ بن کر سامنے آئیں۔ ان کی اس تصویر کا سنہ 1989 میں چین کے شہر بیجنگ کے تیانانمن سکوائر میں ٹینکوں کے راستے میں کھڑے ہونے والے شخص کی تصویر سے موازانہ کیا جا رہا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اولگا نے بتایا کہ ’اس وقت روس میں صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہے۔‘
اولگا مسک کے مطابق جب انہوں نے پولیس اہلکاروں کے سامنے آئین پڑھنا شروع کیا تو کسی نے انہیں کچھ نہیں کہا، تاہم جب وہ مظاہرہ ختم کرنے کے بعد بس کے ذریعے گھر جا رہی تھیں تو انہیں گرفتار کیا گیا۔اولگا مسک کو پولیس نے 12 گھنٹے تحویل میں رکھنے کے بعد رہا کیا اور ان پر 350 امریکی ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا۔
روسی دارالحکومت ماسکو میں گزشتہ چند ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں اور ان مظاہروں کے دوران ہونے والی کشیدگی کے دوران اب تک متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔پولیس نے ان مظاہروں میں شامل ہونے والے سیاسی قائدین کو بھی گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا ہے۔یہ مظاہرے جون میں اس وقت شدت اختیار کر گئے جب حکومت نے متعدد سیاسی رہنماؤں کو رواں برس ستمبر میں ماسکو کی شہری اسمبلی کے طے شدہ انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کیے۔
متعدد سیاسی رہنماؤں کے مطابق حکومت انہیں رواں برس ستمبر میں طے شدہ ماسکو کے انتخابات میں حصہ نہ لینے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔حکومت کے مطابق گرفتار کیے گئے لوگ پرتشدد مظاہروں میں ملوث ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *