بابری مسجد کیس کا فیصلہ شرمناک ہے: پاکستان کا شدید رد عمل

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) پاکستان نے بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کے متنازع فیصلے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مودی کی سیاست نفرت کی سیاست ہے جب کہ بھارتی سپریم کورٹ پربے پناہ دباؤ ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا بابری مسجد کیس کے فیصلے کے بعد اپنے رد عمل میں کہنا ہے کہ آج کے دن بھارتی عدالت کا فیصلہ سنانے کا کیا مقصد ہے، سکھ خوشی منارہے ہیں لیکن آج سکھوں کی خوشیوں کے رنگ میں آج بھنگ ڈالی گئی، بھارتی سپریم کورٹ نے نئی بحث کا آغاز کردیا جب کہ گاندھی اورنہروکا بھارت دفن ہوگیا ہے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ پربے پناہ دباؤ ہے، فیصلے کے بعد مقبوضہ کشمیرمیں آگ اوراٹھے گی، مودی کی سیاست نفرت کی سیاست ہے، نفرت کے بیج بونا بہت خطرناک کھیل ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرپرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، مقبوضہ کشمیرمسئلے پرپاکستان کا بچہ بچہ کھڑا ہے۔

فیصلہ شرمناک اور غیر اخلاقی ہے: فواد چوہدری
وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو شرمناک، غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیا۔

مودی کے ہوتے امن کی بات نہیں کی جاسکتی: شیخ رشید
وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ مودی کے ہوتے ہوئے امن کی بات نہیں کی جاسکتی، بابری مسجد کیس کی جگہ مندر کی تعمیر کا حکم عقل کے اندھے ہی دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی مسلمان اب پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں، اس فیصلے کے بعد بھارت میں مسلمان خود کو غیر محفوظ سمجھیں گے، الہٰ آباد کی عدالت کے فیصلے کو بھارتی سپریم کورٹ نےروند دیا ہے۔

بھارتی عدالت بھی انتہا پسند آئیڈیالوجی کے ساتھ کھڑے ہوگئی: فردوس عاشق
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ یہ ایک بدنما داغ ہے، اسے ہندوستان کی ریاست کبھی نہیں دھوپائے گی، ایک طرف ہم ایک ایسا اقدام لینے جارہے ہیں کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتی اور دنیا بھر کی سکھ برادری کے لیے مذہبی مقام کو کھول رہے ہیں لیکن بھارت کی سب سے بڑی عدالت نے پیغام دیا کہ وہ آزاد نہیں، آج ہندوستان میں انتہا پسند کی سوچ نے اقلیتیوں سے سہارا چھین لیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ بھی انتہا پسند آئیڈیالوجی کے ساتھ کھڑے ہوگئی اس نے ثابت کردیا بھارت میں ہندوتوا کے سوا کسی اور نظریے کی گنجائش نہیں، اس فیصلے سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی، فیصلے نے بھارت کےسیکولرچہرے کوداغ دارکردیا ہے۔

بھارت میں ہندوتوا کی جیت ہوئی: شیریں مزاری
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اپنے رد عمل میں کہا کہ دراصل یہ ہندوتوا کی جیت ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے متنازع زمین پر مندر بنانے کا کہہ دیا ہے جہاں مسجد تعمیر نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیکیولر انڈیا کے مکروہ چہرے کا اختتام ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ مودی کے بیانیے کے ساتھ ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا: تسنیم اسلم
سابق سیکریٹری خارجہ تسنیم اسلم نے اپنے رد عمل میں کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی شہریت کو ختم کیا جارہاہے، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا، بھارتی سپریم کورٹ کی کمپوزیشن بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگوں پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی ، فیصلہ بول رہاہےکہ یہ مذہبی بنیاد پر دیاگیا ہے، محض یہ کہہ دینا کہ یہ فیصلہ مذہبی بنیاد پر نہیں دیاگیا بے معنی ہے، ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام جنم بھومی نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *