کورونا وائرس تاحال بے قابو، ہلاکتیں 900سے تجاوز کر گئیں

چین میں کرونا وائرس کےمہلک وار جاری ، مزید97 افراد ہلاک ہوگئے

بیجنگ: (پاکستان فوکس آن لائن) چین میں کروناوائرس سےمزید97 افراد ہلاک ہوگئے، مہلک وائرس سے مجموعی طورپرہلاکتوں کی تعداد910 ہوگئی ہےجبکہ متاثرہونے والوں کی تعداد40ہزارسے تجاوز کرچکی ہے۔
تفصیلات کےمطابق چین میں اس نئےوائرس سے مزید 97 افراد جان کی بازی ہار گئے۔چین میں جان لیوا کرونا وائرس کے3062 نئے کیسزرپورٹ ہوئے ہیں۔ جس کے بعدمجموعی طورپرچین میں مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد40171 تک پہنچ گئی ہے ۔ چین میں 2003 میں سارس بیماری کے سبب 774 افراد ہلاک اور آٹھ ہزار ایک سو متاثر ہوئے تھے۔
اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت نے اپنی خصوصی چین کیلئےروانہ کردی ہے ۔عالمی ادارہ صحت کی ٹیم چین میں کرونا وائرس کی وبا سے متعلق تحقیقات کرےگی۔ایڈوانس ٹیم کی روانگی کا اعلان عالمی ادارہ صحت کےسرابراہ ٹیڈرس نےکیا۔ چین روانہ ہونیوالےعالمی ماہرین پرمشتمل ٹیم کی سربراہی بروس ایلورڈ کررہےہیں جنہیں پبلک ہیلتھ ایمرجنسی میں تجربہ حاصل ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق کہ ایک چینی نوزائیدہ بچے میں پیدائش کے صرف 30 گھنٹوں بعد نئے کرونا وائرس کی تشخیص کی گئی ہے ، جو اب تک کا سب سے کمسن کیس ریکارڈ کیا گیا ہے . بچے کی پیدائش کے وقت اسکی والدہ میں کرونا کی تشخیص ہوئی تھی ۔مہلک وائرس سے زیادہ تراموات چین کے صوبہ ہوبئی میں ہوئی ہیں ۔ 60 ملین آبادی والے صوبے میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہے ۔ چین کے شہرتیانجنگ میں تمام اسکول اور کاروباری مراکز آئندہ نوٹس تک بندکردیےگئے۔حکام کی جانب سے یہ فیصلہ ملک میں کروناوائرس کی صورتحال کےسبب لیا گیا ہے۔
چینی صدرنے ہسپتالوں کا کنٹرول فوج کے حوالے کردیاہے ۔تیزی سے پھیلتے وائرس نے دنیا بھر میں خوف اور تشویش کی فضا قائم کردی ہے ۔چینی حکام نے رشتہ ازدواج میں بندھنے والےشہریوں کوشادی کی تاریخیں ملتوی کرنےکی ہدایت کردی جبکہ مرنیوالوں کی آخری رسومات بھی چھوٹی سطح پر کی جائیں۔چین کے شہر ہوانگ گوانگ میں طبی سامان کی قلت ہوگئی جبکہ تعلیمی ادارے اورکاروباری مراکز بند کردئیے گئے ہیں ۔ چین کی اعلی قیادت نے مہلک کرونا وائرس پھیلنے سے متعلق ردعمل دینے میں کوتاہیوں اور خامیوں کو تسلیم کیا ہے۔
جینیوا میں صحت کی عالمی تنظیم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO ) چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والے جان لیوا کرونا وائرس پر عالمی ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔ ڈی جی ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈھانم نے کہا کہ ایمرجنسی کا مقصد صورت حال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کو تیز کرنا ہے، چین پر تجارتی یا سفری پابندیوں کی سفارش نہیں کر رہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اپریل تک وائرس کےخلاف جنگ پر ممکنہ طور پر ساڑھے سڑسٹھ کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *