نریندر مودی بھارت میں تقسیم کے ذمہ دار ہیں، امریکی جریدہ

معروف امریکی جریدے کے سرورق پر مودی کی تصویر متنازع عنوان کے ساتھ شائع

واشنگٹن: (پاکستان فوکس آن لائن)  معروف امریکی جریدے’’ٹائم‘‘ نے اپنے نئے شمارے کے سرورق پر بھارتی وزیراعظم کی تصویر متنازع عنوان کے ساتھ شائع کردی۔ٹائم نے اپنے نئے شمارے کے سرورق پر مودی کی تصویر کے ساتھ’’ انڈیاز ڈیوائڈر انچیف‘‘ یعنی بھارت کو تقسیم کرنے والی سب سے بڑی شخصیت کی سرخی لگائی ہے۔امریکی میگزین کے سرورق پر موجود شہ سرخی جریدے میں موجود ایک مضمون سے متعلق ہے جس میں مصنف نے بھارتی سیاست پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔مضمون کی شہ سرخی بھی دلچسپ ہے جس میں مصنف نے سوال پوچھا ہے کہ کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مزید پانچ سال مودی حکومت کو برداشت کرنے کی متحمل ہوسکتی ہے؟مضمون میں سابق بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کے سیکولر نظریات اور نریندر مودی کے نظریات کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔میگزین میں مودی کے بطور وزیراعلیٰ گجرات میں ہونے والے فسادات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں ان دنوں لوک سبھا انتخابات کا عمل جاری ہے، ایسے موقع پر میگزین کے متنازع ٹائٹل نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔ایک طرف سوشل میڈیا پر اس عنوان پر تنقید کی گئی ہے تو اس کی حمایت میں بھی بہت سے لوگوں نے اظہار خیال کیا ہے۔

میگزین کی کور اسٹوری میں لوک سبھا کے جاری انتخابات میں ہونے والے گٹھ جوڑ اور حکمران جماعت کے گزشتہ پانچ سالوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ٹائم میگزین نے اپنی کور اسٹوری’’کین دی ورلڈس لارجسٹ ڈیموکریسی انڈیور اَنڈر فائیو ایئرس آف مودی گورنمنٹ؟‘‘، یعنی کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مودی حکومت کے مزید پانچ سال برداشت کر پائے گی؟ کے عنوان سے شائع کی ہے۔میگزین نے مودی دور حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور اس کا پنڈت جواہر لال نہرو کے سماج اور ہندوستان کی موجودہ سماجی صورتحال سے تقابلی جائزہ لیا ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ ٹائم میگزین کی کوراسٹوری آتش تاثیر نے رقم کی ہے۔
آتش تاثیر نے لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کے جذبے کوپروان چڑھانے کی کسی قسم کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔مضمون نگار آتش تاثیر کا مؤقف ہے کہ نریندر مودی کا برسر اقتدار آنا اس امر کا غماز ہے کہ وہ ہندوستان جس کے لبرل کلچر کا بہت تذکرہ کیا جاتا تھا وہاں ایسا کچھ نہیں تھا بلکہ وہاں تو مذہبی تفریق، مسلمانوں کے خلاف جذبات اور ذات پر مبنی شدت پسندی پھل پھول رہی تھی۔وزیراعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ مودی نے اپنی تقاریراور بیانیوں میں ہندوستان کی عظیم شخصیات پر رکیک حملے کیے جن میں نہرو جیسی ’مہان‘ ہستی بھی شامل تھی۔مضمون نگار کے مطابق مودی مسلسل کانگریس مکت ہندوستان کی بات کرتے ہیں اور کبھی انہوں نے ہندو مسلم بھارئی چارے کے فروغ کی کسی بھی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ٹائم نے اپنی کور اسٹوری میں 1984 کے سکھ فسادات اور 2002 میں گجرات کے اندر ہونے والے فسادات کا بھی حوالہ دیا ہے۔مضمون نگار کے مطابق کانگریس بھی 1984 کے فسادات کے الزامات سے یکسربری الذمہ نہیں ہے مگر اس نے فسادات کے دوران پرتشدد کارروائیوں سے خود کو الگ تھلگ رکھا جب کہ نریندر مودی 2002 کے فسادات کے دوران اپنی ’خاموشی‘ سے ’فسادیوں کے دوست‘ ثابت ہوئے۔کور اسٹوری میں لکھا گیا ہے کہ 2014 میں لوگوں کے درمیان پروان چڑھتے غصے کو معاشی وعدوں میں بدل دیا گیا اور ملازمت و ترقی کی بات کی گئی مگر حالات نے بتایا کہ وہ سب امیدوں کا انتخاب تھا جس پر اس وقت یقین کرنا مشکل لگتا ہے۔آتش تاثیر کے مطابق نریندر مودی کے ذریعے معاشی ’انقلاب‘ بپا کرنے یا کوئی ’معجزہ‘ ہوجانے کا وعدہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ سخت اظہار افسوس کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ صرف یہی نہیں بلکہ انھوں نے ملک میں ’زہریلا مذہبی نیشنل ازم‘ کا ماحول تیار کرنے میں ضرور مدد کی ہے۔ٹائم میگزین کی اسٹوری میں ’موب لنچنگ‘ اور ’گئو رکشکوں‘ کے ہاتھوں کیے گئے تشدد کا بھی تذکرہ ہے۔ کور اسٹوری کے مطابق گائے کے حوالے سے متعدد مرتبہ مسلمانوں پر حملے کیے گئے اور ایسا بار بار ہوا اور انہیں مارا بھی گیا۔آتش تاثیر نے ٹائم میگزین کی کور اسٹوری تحریر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایک بھی ایسا مہینہ نہیں گزرا جب لوگوں کے اسمارٹ فون پر وہ تصاویر نہ آئی ہوں کہ جس میں ناراض ہندو بھیڑ ایک مسلمان کو پیٹ نہ رہی ہو۔عالمی شہرت یافتہ ٹائم‘ میگزین کی کور اسٹوری میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ 2017 میں اتر پردیش میں جب بی جے پی نے انتخاب جیتا تو ’بھگوا‘ پہننے اور نفرت پھیلانے والے ایک شخص (مہنت) کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔دلچسپ امر ہے کہ ٹائم‘ میگزین نے 15-2014 میں نریندر مودی کو دنیا کے 100 بااثر لوگوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
ٹائم میگزین کی کور اسٹوری تحریر کرنے والے آتش تاثیر مرحوم گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور بھارتی صحافی تلوین سنگھ کے بیٹے ہیں۔ وہ برطانیہ میں مقیم صحافی ہیں اور دنیا کے مؤقر اخبارات میں تسلسل کے ساتھ لکھتے ہیں۔ ان کی تحریر کردہ متعدد کتب منظر عام پر آچکی ہیں جن میں Stranger to Historyاور The Way Things Were,The Twice- Born شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *