وفاقی حکومت6ہزار ارب سے زائد کا بجٹ آج پیش کرے گی

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا 6 ہزار 700 ارب روپے سے زائد کا بجٹ آج پیش کرے گی۔ بجٹ میں ٹیکس آمدن کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا گیا۔مشیر خزانہ 6 ہزار 700 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کریں گے۔ بجٹ میں ٹیکس آمدن کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا گیا ہے، 2550 ارب روپے خسارے کی نذر ہوسکتے ہیں۔ بجٹ میں 2900 ارب روپے سود اور قرضوں کی ادائیگیوں پر خرچ ہونے کا بھی امکان ہے۔بجٹ میں ترقیاتی کاموں پر 925 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال جی ڈی پی کا حجم 40 ہزار 300 ارب سے زائد رہے گا، بجٹ میں مالی خسارہ 5.8 فیصد ہو سکتا ہے۔رمضان ریلیف اور کھاد پر سبسڈی مل سکتی ہے، آئندہ بجٹ میں سبسڈی کے لیے 260 ارب روپے سے زائد مختص ہوسکتے ہیں، ٹیکس آمدن 3185 ارب روپے صوبوں کو دیئے جائیں گے۔
آئندہ مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں20 سگریٹ والے پیکٹ پردس روپے اضافی صحت ٹیکس عائد کرنےکے ساتھ ساتھ 250 ملی لیٹر کولڈ ڈرنک کی بوتل پر ایک روپے فی بوتل ہیلتھ ٹیکس لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیاہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ہیلتھ ٹیکس سے 40 سے 50 ارب روپے کی رقم حاصل ہوگی۔ یہ رقم ہیلتھ کارڈ کے ذریعے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔ایف بی آر کا بیوٹی پارلرز سے اِنکم ٹیکس اکٹھا کرنے کا فیصلہ بھی سامنے آیاہے۔ ایف بی آر حکام نے کراچی میں 500 بیوٹی پارلرز کی نشاندہی کرلی ہے۔کمرشل اور انڈسٹریل صارفین پرسیلز ٹیکس کی شرح 5 سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ جن صارفین کا بجلی کا بل 20 ہزار روپے ماہانہ سے زائد ہوگا ان پر یہ ٹیکس لگے گا۔نان فائلرز انڈسٹریل اور کمرشل صارفین پر انکم ٹیکس کی شرح 25 فیصد کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔ زرعی آمدن پر چھوٹ صرف ٹیکس فائلرز کو فراہم کرنے کی تجویزہے۔وفاقی بجٹ میں بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کا معاملہ بھی شامل کیا گیاہے۔ ایف بی آر میں تین بے نامی زونز،قانونی اتھارٹی اور ایپلٹ ٹربیونلزکیلئے الگ سے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان اداروں کیلئے گریڈ17 تا 21 کی دس نئی آسامیوں کی منظوری دی جائیگی۔آف شور اثاثہ جات ہر پریزمپٹو ٹیکس کے نفاذ، غیر منقولہ جائیدادوں اور سیکورٹیز جات پر کیپیٹل گین ٹیکس کیلئے ہولڈنگ پیریڈ کی معیاد بڑھانے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔پراپرٹی کے ڈی سی ریٹ بڑھاکر ٹیکس کی شرح کم کرنے کی تجویز کے علاوہ چالیس لاکھ روپےسے زائد کی جائیداد پر ٹیکس کی شرح فائلرز کےلئے دو فیصد سے اور نان فائلرز پر چار فیصد کے خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس وصولی کیلئے رہائشی و کمرشل جائیدادوں و پلاٹس کی ایویلوایشن کی تجویز کے علاوہ ڈی سی ریٹ کو مارکیٹ ریٹ کے 75 فیصد یا دونوں نرخوں کو یکساں کرنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ، پی ڈی ایل اور ایس ٹی میں توازن قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کی شرح بڑھانے،تمام اسپیشل پروسیجرز پر نظر ثانی کی تجویز بجٹ میں شامل ہے۔متعدد اشیاء کی پرچون قیمت پر سیلز ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز بجٹ کا حصہ ہے.ایل این جی اور ایل پی جی کی درآمد پر دی جانی والی کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ ختم کرکے پانچ فیصد مشروط کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔بجٹ میں آئل ریفائنریز کیلئے ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پیٹرول پر ڈیمڈ ڈیوٹیوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ ایچ ایس ڈی پرڈیمڈ ڈیوٹی کی شرح ساڑھے 7 فیصد سے بڑھا کر ساڑھے12 فیصد اورپٹرول پر بھی ساڑھے 12 فیصد ڈیمڈ ڈیوٹی عائدکرنے کی تجویزہے۔1یہ تجویز آئل ریفائنریز کے منافع میں بہتری ،آئل ریفانریز اپ گریڈیشن اور ملک میں مقامی سطع پر پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ کےلئے بجٹ کا حصہ بنائی گئی ہے۔حکومت کو ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پٹرول کی مد میں مجموعی طور پر 68 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ حکومت کو11 ارب روپے ہائی اسپیڈ ڈیزل اور 57 ارب روپے پٹرول کی مد میں حاصل ہونگے۔

بجٹ میں ا ٓئل ریفائنریوں کی سرمایہ کاری اور مکمل ٹرن اوور پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئل ریفائنریز کا ٹرن اوور بہت زیادہ ہے جبکہ منافع کی شرح بہت کم ہوتی ہے۔پولٹری مصنوعات، الیکٹرونک مصنوعات سمیت درجنوں اشیا پر ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے ۔ لگژری اشیا کی درآمد پر 2 فیصد اضافی ڈیوٹی کو بڑھا کر 3 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ٹیکسٹائل، گارمنٹس، لیدر، سرجیکل آلات اور کھیلوں کے سامان کی برآمدات کی موجیں ختم کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔ برآمدکنندگان کے لیے مینوفیکچرنگ اسٹیج پر زیرو ٹیکس کی سہولت ختم کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔مینوفیکچرنگ کے شعبہ پر زیرو ریٹیڈ ختم کرکے کم از کم 7.5 فیصد سیلزٹیکس عائدکرنے کی تجویزسامنے آئی ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) وصولیوں کی گزشتہ شرح میں 42 فیصد اضافہ تجویز کررہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *