پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات کا پہلا دور

اٹاری:(پاکستان فوکس آن لائن ) کرتار پور راہداری پر اٹاری میں پاک بھارت مذاکرات کا پہلا دور جاری ہے، پاکستانی وفد کی قیادت ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کر رہے ہیں، وزارت خارجہ و داخلہ، قانون و انصاف اور مذہبی امور کے حکام بھی وفد میں شامل ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے واہگہ بارڈر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان نے کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، میٹنگ کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق ہے، امید ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا پاکستان اقلیتوں کے حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے، پاک بھارت کشیدگی میں کمی خطے کے امن کیلئے ضروری ہے، ہماری سوچ ہے ایک شجر ایسا لگایا جائے کہ ہمسائے کے گھر میں سایہ جائے، منصوبے کا سنگ بنیاد 20 نومبر 2018 کو رکھا گیا، جس کی تکمیل نومبر 2019 میں ہو جائے گی۔سکھوں کے لیے مقدس مقام گوردوارہ کرتار پور ضلع نارروال میں واقع ہے۔ اس مقام پر سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہ گوردوارہ لاہور سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر تحصیل شکر گڑھ کے بھارتی سرحد پر گاؤں کوٹھہ پنڈ میں واقع ہے۔پاکستان کے منصوبے کے تحت کرتار پور میں بارڈر ٹرمینل کی تعمیر ہوگی اور دریائے راوی پر پل بنے گا۔ سرحد کے دونوں طرف راہداری مکمل ہونے کے بعد سکھ زائرین کو بارڈر سے گوردوارے تک ویزے کے بغیر سپیشل پرمٹ پر رسائی دی جائے گی۔ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے جس کا 40 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے، یہ منصوبہ رواں سال بابا گرو نانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر مکمل کرنے کا ہدف ہے۔سرحد کے دوسری جانب بھارت کا ضلع گورداس پور واقع ہے۔ بھارت نے راہداری کے لیے ڈیرہ بابا نانک نامی علاقے کو زیرو پوائنٹ مقرر کیا ہے۔ بھارت وہاں مسافر ٹرمینل بلڈنگ کمپلیکس اور چیک پوسٹیں قائم کرے گی۔ جس پر 190 کروڑ بھارتی روپے لاگت آئے گی۔ ٹرمینل پر روزانہ پانچ ہزار سکھ یاتریوں کو کسٹم اور امیگریشن کی سہولیات ملیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *