آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ عہدے سے مستعفی

واشنگٹن: (پاکستان فوکس آن لائن) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں کیا ہے۔

کرسٹین لیگارڈ اپنے منصب سے 12 ستمبر کو علیحدگی اختیار کریں گی۔ انہیں دو جولائی کویورپین سنٹرل بینک کا سربراہ نامزد کیا گیا تھا لیکن یورپین پارلیمنٹ کی جانب سے ان کی تقرری کی توثیق ہونا باقی ہے۔وہ اگر یورپین سنٹرل بینک کی صدر منتخب ہوئیں تو وہ یہ عہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون ہوں گی۔ وہ فرانس کی وزیرخزانہ تھیں۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ آئی ایم ایف کی پہلی خاتون سربراہ ہیں۔
عالمی خبررساں ادارے کے مطابق معیشت سے وابستہ مختلف حلقوں میں کرسٹین لیگارڈ کے جان نشین کے طور پر بینک آف انگلینڈ کے گورنر مارک کارنی، بینک آف فن لینڈ کے گورنر اولی ریہن اور یورپین سنٹرل بینک کے ایگزیکٹو بورڈ رکن بین ویٹ کوئرکے نام لیے جارہے ہیں۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق آئی ایم ایف کے ذرائع کا اس ضمن میں یہ بھی کہنا ہےعالمی بینک کی چیف ایگزیکٹو افسر جو بلغارین نژاد ہیں، کو بھی اس منصب کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر شمار کیا جارہا ہے۔ ان کا نام کرسٹالینا جارجیوا ہے۔

کرسٹین لگارڈنے گزشتہ سال آئی ایم ایف میں چیف اکنامسٹ کے منصب پہ بھارتی پروفیسر گیتا گوپی ناتھ کو نامزد کیا تھا۔ 46 سالہ پروفیسرگیتا گوپی ناتھ ہارورڈ یونیورسٹی میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ وہ رواں سال کے اختتام پر اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گی۔ وہ گیتا ماورائس کی سبکدوشی کے بعد اس عہدے پر فائز ہوں گی۔
پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے گزشتہ دنوں چھ ارب ڈالرز کا بیل آؤٹ پیکیج لیا ہے جس کی تمام تر نگرانی خود کرسٹین لگارڈ نے کی تھی۔ اس ضمن میں تاحال نہیں معلوم کہ ان کی رخصتی کے بعد جب بھارتی پروفیسر گیتا چیف اکنامسٹ کا منصب سنبھالیں گی تو وہ کس حد تک جاری پروگرم پر اثر انداز ہوسکیں گی؟آئی ایم ایف کے سربراہ کے لیے روایتی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ جو بھی کرسٹین لیگارڈے کا جان نشین ہوگا وہ مغربی ہو گا کیونکہ روایتاً عالمی مالیاتی ادارے کا سربراہ مغربی اور ورلڈ بینک کا سربراہ امریکی ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *