ورلڈبینک پاکستان کو 91کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا

عالمی بینکسے پاکستان کو 918 ملین ڈالر قرض کی فراہمی کا معاہدہ طے پاگیا

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) عالمی بنک پاکستان کو3 مختلف منصوبوں کیلئے 91کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا،پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان معاہدے پردستخط ہوگئے۔دستخطوں کی تقریب میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ بھی موجود تھے۔ عالمی بنک ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے ایک منصوبے میں 40 کروڑ ڈالر دے گا۔ اسمنصوبے کے تحت جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب سترہ فیصد تک بڑھایا جائے گا۔
وزارت خزانہ حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت ٹیکس گزاروں کی تعداد 35 لاکھ تک بڑھائی جائے گی۔ عالمی بنک پاکستان میں اعلی تعلیم کی ترقی کے لیے بھی 40 کروڑ ڈالر دیگا۔اسی طرح عالمی بنک کے پی میں بھی محصولات بڑھانے کیلیے 11کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی رقم دیگا۔واضح رہے کہ ورلڈ بینک نے کراچی میں ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے، بلدیاتی نظام کی بہتری اور پانی کی تقسیم کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار رواں سال مارچ میں کیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر پیتھامیتھو الانگوان کی سربراہی میں وفد نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی سے ملاقات کی۔عالمی بینک سے ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں پراپرٹی سروے کا بھی اعلان کردیا۔اس موقع پر بی آر ٹی بلیو لائن بس منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 35 کروڑ 95 لاکھ ڈالر لگایا گیا ہے، اس رقم سے منصوبے میں تفصیلی ڈیزائن، بس لائنیں، بس ڈپو، سڑک کی تعمیر و فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جائے گی۔وفد نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ اربن مینجمنٹ منصوبہ 20 کروڑ ڈالر کا ہے منصوبے کے تحت کے ایم سی اور شہر کے ڈی ایم سیز عملے کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ حکومت سندھ کراچی کے میونسپل سروسز اور پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے نظام کو کو بہتر بنانے کیلئے عالمی بینک کی مدد چاہتی ہے اور اس سلسلے میں کراچی شہر کا پراپرٹی سروے بھی کرایا جائے گا۔عالمی بنک کے وفد نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ کراچی واٹر بورڈ کے پورے سسٹم کی از سر نو تعمیر کا منصوبہ 650 ملین کی لاگت سے شروع کیا جائے گا، منصوبے کے تحت نکاسی آب کی لائنیں، پمپنگ اسٹیشنز، پانی کا فراہمی نظام و بلنگ کا نظام ڈجیٹل کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *