بھارت : جیلر نے مسلمان قیدی کی پیٹھ پر ’’اوم‘ ‘کا نشان دغوا دیا

نئی دہلی: (ویب ڈیسک) انتہا پسند اورمسلم و اقلیت دشمن ’مودی سرکار‘ کے دورمیں بھارتی حکام بھی اپنے ہی بھارتی شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کو پامال کرنے پہ تل گئے ہیں۔انھی وجوہات کی بنا پر کبھی مسلمانوں کے کاروبار کو بند کرایا جارہا ہے، کبھی بزرگ مسلمانوں کی جان بخشی خنزیر کھلا کر کی جارہی ہے تو کبھی انتہا پسند ہندوؤں کے جتھے مسلمانوں کو دن دیہاڑے ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن حکومتی اہلکار اپنے فرائض بھول کرخاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
حکومتی اہلکاروں کی مذہبی تعصب پسندی، جنونیت اور مسلم دشمنی کی ایک اور بدترین مثال گزشتہ روز اس وقت سامنے آئی جب بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل کے جیلر نے مسلمان قیدی کی پیٹھ پر گرم دھات سے ہندوؤں کا مذہبی نشان ’اوم‘ دغوا دیا۔بھارت کے ذرائع ابلا غ کے مطابق تہاڑ جیل میں قید نبیر نامی مسلمان قیدی نے اپنے وکیل کے توسط سے دہلی کی کڑکڑ ڈومہ کورٹ کو بتایا ہے کہ بیرک میں انڈکشن چولہا کام نہ کرنے کی شکایت پر جیل سپرنٹنڈنٹ راجیش چوہان نے اسے پہلے بری طرح زد و کوب کیا اور اس کے بعد برہنہ پیٹھ پر دھات کی سلاخ سے جبراً ہندوؤں کا مذہبی نشان ’اوم‘ کا نشان دغوا دیا۔نبیر نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ جیل انتظامیہ نے اسے دو دن تک فاقہ کشی پہ مجبور کیا اور کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں دیا۔تہاڑ جیل کے مسلمان قیدی نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ مسلمان ہونے کی پاداش میں اسے نازیبا الفاظ کہے گئے اور اوراس کا استحصال کیا گیا۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مسلمان قیدی کی شکایت پر دوران سماعت کڑکڑڈومہ کورٹ میں جج نے بذات خود اس کی پیٹھ پر بنے اوم کے نشان کا معائنہ کیا اور اس کے بعد تہاڑ جیل کی انتظامیہ کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔مسلمان قیدی نبیر کی شکایت پر دہلی کی کڑکڑڈومہ کورٹ نے جیل انتظامیہ کو دو دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔کڑ کڑ ڈومہ کورٹ میں آئندہ سماعت پیر کو ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *