پاکستان اور طالبان کا افغان مفاہمتی عمل کی جلد بحالی پر اتفاق

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)پاکستانی حکام سے افغان طالبان کے وفد کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام اور افغان طالبان کے وفد کی ملاقات دفتر خارجہ میں ہوئی جہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے طالبان وفد کو خوش آمدید کہا۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جب کہ 12 رکنی افغان طالبان کے وفد کی قیادت ملا عبد الغنی برادر نے کی۔ اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان مسئلے کے جلد پرُ امن حل کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کرنے کا وقت ہے اور افغانستان میں مستقل امن کے لیے پاکستان تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھےگا۔
پاکستانی حکام اور طالبان نے افغان امن کی بحالی پر اتفاق کیا ہے جبکہ طالبان نے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن زلمے خلیل زاد سے پاکستان میں ملاقات پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس دوران کہا کہ پاک افغان برادرانہ تعلقات، مذہبی ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں، چالیس برس سے افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ دونوں ممالک بھگت رہے ہیں، پاکستان صدق دل سے سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، افغانستان میں قیام امن کیلئے “مذاکرات” ہی مثبت اورواحد راستہ ہے، ہمیں خوشی ہے کہ آج دنیاافغانستان کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید کررہی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا چلا آ رہا ہے، پاکستان نے افغان امن عمل میں ایمانداری سے مصالحانہ کردار ادا کیا، پرامن افغانستان پورے خطے کے امن واستحکام کیلئے ناگزیر ہے، ہماری خواہش ہے کہ فریقین مذاکرات کی جلد بحالی کی طرف راغب ہوں جب کہ پاکستان افغان امن عمل کوکامیاب بنانے کیلئے اپنا مصالحانہ کردار صدق دل سے ادا کرتا رہے گا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امید ہے رکے ہوئے امن عمل کی شروعات جلد کردی جائے گی، امن عمل میں طالبان کی سنجیدہ شمولیت کی تعریف، کوششوں کومنطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے، پاکستان کی حمایت نے افغانستان میں پائیدار امن معاہدے کے حصول کے لئے مضبوط بنیاد رکھی، امن عمل کی شروعات کے لئے سازگار ماحول اور تمام فریقین کی جانب سے تشدد میں کمی لانا ضروری ہے۔
ادھر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ طالبان وفد نے افغانستان میں امن کے لئے پاکستان کے تعاون کو سراہا اور دونوں فریقین نے امن عمل کو جلد از جلد بحال کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *