بلاول بھٹو زرداری نے 330 میگاواٹ کے 2 تھرکول پاورپلانٹس کا افتتاح کردیا

تھرپارکر: (پاکستان فوکس آن لائن) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آج تھر میں 330 میگاواٹ کے 2 تھر کول پاور پلانٹس کا افتتاح کردیا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور سندھ کابینہ و پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔بجلی منصوبے کی افتتاحی تقریب کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے۔بلاول بھٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پیغام میں تصاویر بھی ٹیگ کیں اور لکھا کہ میں نے ابھی ابھی تھر کول پاور پلانٹ کا افتتاح کردیاہے۔ یہ پاکستان میں سب سے بلند ڈھانچہ ہے جو انسانی ہاتھوں سے بنایا گیاہے۔تھرکول سے بننے والی بجلی کے 660 میگا واٹ بجلی گھروں سے بجلی کی تیاری کا آغاز ہوگا، ابتدائی طور پر دونوں پلانٹ سے 100، 100 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوگی جب کہ جون تک بتدریج کمرشل بنیادوں پر مکمل بجلی کی ترسیل شروع ہوگی۔بلاول بھٹو زرداری نے تھرکول پاور پلانٹس کو اپنے ٹوئٹر پیغام میں پاکستان کا سب سے بڑا منصوبہ قرار دیا اور ہیش ٹیگ میں واضح کیا کہ
’ ’تھر نے بدلا پاکستان‘‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ چیئرمین سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی خورشید جمالی کا کہنا تھا کہ تھر میں 330 میگا واٹ بجلی گھر نے پیداوار شروع کردی اور 330 میگا واٹ کا ایک اور یونٹ چند دن میں پیداوار شروع کرے گا۔خورشید جمالی کے مطابق منصوبے پر کام کا آغاز اپریل 2016 میں ہوا تھا اور 3 جون کو دونوں یونٹس کمرشل پیداوار کا آغاز کریں گے۔یاد رہے کہ تھرکول منصوبے کا آغاز 2011 میں سندھ حکومت اور نجی کمپنیوں کے اشتراک سے ہوا اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد 2020 تک دو ہزار میگاواٹ بجلی کی پیدوار شروع ہوجائے گی۔

کول مائن پروجیکٹ کے انجینئر کہتے ہیں فی الحال 12 ہزار ٹن کوئلہ روزانہ کی بنیاد پر نکالا جا رہا ہے جس سے 660 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہو رہی ہے۔اگلے فیز میں 20 ملین ٹن کوئلہ نکالا جائے گا جس سے 5 ہزار میگاواٹ تک بجلی کی پیداوار ہو سکے گی۔یاد رہے تھرکول کے پاور پلانٹ کا افتتاح گزشتہ ماہ 18مارچ کو ہوا تھا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کیا تھا کہ آج پاکستان کیلئے بڑا دن ہے۔ تھرکول سے بجلی بنانے والے پہلے 330 میگاواٹ کے پاور پلانٹ کو نیشنل گریڈ سے منسلک کردیا گیا ہے۔سندھ میں مقامی کوئلے سے 660 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا ایک اور پاور پلانٹ بھی 2019 میں ممکنہ طور پر کام شروع کر دے گا۔تھر میں کوئلے کے ذخائر کو 13بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 98 مربع کلو میٹر کا رقبہ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے پاس ہے جس میں1.57 بلین ٹن کوئلہ موجود ہے جس کے ذریعے آئندہ پچاس برس تک5ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی۔تھر کوئلے سے حا صل ہو نے والی بجلی کے نرخ ابتدا میں 17.4 جو 8سال کے اندر کم ہو کر08.2روپے فی یونٹ رہ جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *