امریکا، پولیس کے ہاتھوں مارے جانیوالے جارج فلائیڈ کی آخری رسومات ادا

آخری رسومات میں سماجی رہنماوں سمیت سیاہ اور سفید فام افراد کی بڑی تعداد نےشرکت کی

ہیوسٹن: (پاکستان فوکس آن لائن)امریکا میں پولیس اہل کاروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے جارج فلوئیڈ کی آخری رسومات ادا کردی گئیں، جہاں لوگوں نے ان کا آخری دیدار کیا۔ یوسٹن کے ‘فاؤنٹین آف پریز’ نامی چرچ میں ان کا تابوت رکھا گیا۔امریکی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں ہزاروں افراد نے پولیس اہلکاروں کی تحویل میں ہلاک ہونے والے جارج فلائیڈ کی آخری رسومات میں شرکت کی اور ان کا آخری دیدار کیا۔آخری رسومات کے دوران جارج فلائیڈ کا تابوت چرچ میں رکھا گیا تھا جہاں لوگ جوق درجوق آ کر اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ اس موقع پر لوگوں نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک پہنے ہوئے تھے۔ ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے جارج فلائیڈ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلائیڈ کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پولیس اصلاحات کے معاملے میں فلائیڈ کے اہلِ خانہ کی رائے بھی شامل کریں گے۔چرچ کے باہر تقریب کے منتظمین کی جانب سے جارج فلائیڈ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے پھول بھی رکھے گئے تھے۔ سفید رنگ کے پھولوں سے ‘بی ایل ایم’ کے حروف تہجی لکھے گئے تھے جن کا مطلب تھا ‘بلیک لائیوز میٹر۔
بعد ازاں جارج فلوئیڈ کی تدفین ہیوسٹن میں کی گئی،جو فلائیڈ کی جائے پیدائش بھی ہے اور یہیں انہوں نے اپنی زندگی کا ابتدائی عرصہ گزارا تھا۔دوسری جانب دوسری جانب جارج فلائیڈ کے قتل کے الزام میں گرفتار منی ایپلس پولیس کے اہلکار ڈیرک چاون کو بھی پیر کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ ڈیرک وہی پولیس افسر ہیں جنہوں نے 25 مئی کو جارج فلائیڈ کی گردن پر تقریباً نو منٹ تک اپنا گھٹنا رکھا تھا۔
واضح رہے کہ پولیس اہل کار ڈیرک چاون پر سیکنڈ ڈگری مرڈر کے الزام کے تحت مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔چاون کو سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر عدالت نہیں لایا گیا بلکہ اُنہیں ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کا حصہ بنایا گیا۔ چاون تقریباً 11 منٹ تک سماعت میں شریک ہوئے۔ وہ جیل میں ہی ایک میز کے قریب بیٹھے ہوئے تھے اور انہیں ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ چاون نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک بھی پہنا ہوا تھا۔سماعت کے دوران عدالت نے ڈیرک چاون کی 10 لاکھ ڈالرز کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 29 جون کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ حکام نے جارج فلائیڈ کی گرفتاری کے وقت موقع پر موجود منی ایپلس پولیس کے تین دیگر اہلکاروں کو بھی مقدمے میں نامزد کر رکھا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *