کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیا جائے،حافظ نعیم الرحمان

تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے الیکٹرک کیخلاف میدان میں آگئیں

کراچی: (پاکستان فوکس آن لائن) تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور جماعت اسلامی کے الیکٹرک کے خلاف میدان میں آگئیں۔تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لیا جائے۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو سال سے تحریک انصاف کی حکومت ہے لیکن کے الیکٹرک کونوٹس تک نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کراچی کے شہریوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جبکہ حکومت کے الیکٹرک کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ لوڈ شیڈنگ کے معاملے پرہماری بات نہیں سنی جارہی اس لیے ہم دھرنے دیں گے۔
تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے وزیراعظم سے ایکشن لینے کا مطالبہ کردیا۔ ایم کیو ایم کے کنور نوید جمیل نے کہا کہ معیشت کا پہیہ چلانے والے شہر کو بجلی سے محروم رکھنا ظلم ہے، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان نے کراچی کے 100 مقامات پر کے الیکٹرک کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا۔ کراچی میں کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے باہر تحریک انصاف کا دھرنا بدستور جاری ہے۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نے وزیراعظم سے کے الیکٹرک کیخلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ایم کیو ایم رہنما کنور نوید جمیل نے کہا کہ کراچی میں بجلی کے نرخ پورے ملک سے زیادہ ہیں مگر شہریوں کو بجلی نہیں مل رہی۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کے الیکٹرک کیخلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت شہر کا اہم ترین مسئلہ لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ ہے۔سیاسی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث صرف گھریلو، دفتری اور صنعت و تجارت سے متعلق امور ہی متاثر نہیں ہورہے بلکہ بچوں کی آن لائن تعلیم کا سلسلہ بھی درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔خیال رہے کہ کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 سے 14 گھنٹے تک ہوگیا ہے جس کے باعث شدید گرمی اور حبس میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔واضح رہےوزیراعظم عمران خان نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے اسد عمر، گورنر سندھ اور معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن کو کے الیکٹرک انتظامیہ سے ملاقات کرکے مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *