عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے مرض کو نیا نام دے دیا

چین میں اموات کی تعداد1100سے زائدہوگئی ،44ہزار سےزائد متاثر

بیجنگ: (پاکستان فوکس آن لائن) چین میں کروناوائرس سےمزید97 افراد ہلاک ہوگئے، مہلک وائرس سے مجموعی طورپرہلاکتوں کی تعداد 1123 ہوگئی ہے جبکہ متاثرہونے والوں کی تعداد44ہزارسے تجاوز کرچکی ہے۔
تفصیلات کےمطابق چین میں اس نئےوائرس سے ایک ہی دن میں مزید97 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ چین کے صوبہ ہوبئی میں جان لیوا کرونا وائرس کے مزید2015 نئے کیسزرپورٹ ہوئے ہیں۔ جس کے بعد مجموعی طورپرچین میں مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد44664 تک پہنچ گئی ہے ۔ ہلاک ہونے والوں میں 1068 افراد کا تعلق ووہان شہر سے ہے۔
اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت کی خصوصی ٹیم چین پہنچ گئی ہے ۔عالمی ادارہ صحت کی ٹیم چین میں کرونا وائرس کی وبا سے متعلق تحقیقات کرےگی۔ایڈوانس ٹیم کی روانگی کااعلان عالمی ادارہ صحت کےسرابراہ ٹیڈرس نےکیا۔ چین پہنچنے والےعالمی ماہرین پرمشتمل ٹیم کی سربراہی بروس ایلورڈ کررہےہیں جنہیں پبلک ہیلتھ ایمرجنسی میں تجربہ حاصل ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ناول کورونا وائرس کو اب ’کوویڈ-19 ‘کا نام دے دیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈانوم نے جینیوا میں میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ پراسرار کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ہزار سے تجاوز کرنے کے بعد اس سے ہونے والے مرض کو کوویڈ-19 (covid-19) کا نام دیا گیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق وبا کا نیا نام کورونا ، وائرس اور بیماری کا مرکب ہے جس میں 2019 کا سال بھی نمایاں ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت کو اس وائرس کی اطلاع گزشتہ برس کی 31 دسمبر کو موصول ہوئی تھی۔رپورٹ کے مطابق محققین وائرس کے باعث تشخیص ہونے والے مرض کے لیے باضابطہ نام رکھنے کا مطالبہ کر رہے تھے تاکہ کسی بھی ملک یا گروپ کی پریشانی اور طنز سے بچ سکیں۔ نئے نام کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک ایسا نام تلاش کرنا پڑا جو جغرافیائی محل وقوع، جانور، کسی فرد یا لوگوں سے نہ ملتا ہو اور بیماری کو بھی واضح کرتا ہو۔ان کا کہنا تھا کہ نام رکھنا ایسے ناموں سے حفاظت کرتا ہے جو نامناسب ہوں یا بدنامی کا باعث ہوں اس لیے نیا نام کوویڈ-19 مستقبل میں وائرس پھیلنے کی صورت میں ایک معیار دے سکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ کورونا وائرس چین کے بعد پوری دنیا میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے جو ایک سنگین خطرہ بنتا جارہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس وائرس کی ویکسن کی تیاری میں 18 ماہ لگ سکتے ہیں لہذا ہمیں موجودہ صورتحال میں تمام دستیاب وسائل کے ذریعے سے اس کا حل نکالنا ہوگا۔ٹیڈروس ایڈمنوم گوٹھائیس نے کہا کہ جو لوگ کبھی چین نہیں گئے، ان لوگوں میں اس وائرس کی تشخیص میں اضافہ نادیدہ خطرے کی پہلی جھلک ہے لہذا ہمیں اس خطرے سے تیزی سے نمٹنا ہوگا۔
واضح رہے کہ کورونا وائرس سے خدشات کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی سطح پر ہنگامی حالت نافذ کر رکھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *