مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پورے خطے کیلئے خطرہ ہے، وزیر خارجہ

بھارت کشمیر میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے

واشنگٹن: (پاکستان فوکس آن لائن)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کے لیے بین الاقوامی عسکری تعلیم و تربیت پروگرام کی بحالی کا فیصلہ ہمارے نزدیک بہت اہمیت کا حامل ہے۔
واشنگٹن میں امریکی نائب سیکرٹری دفاع جان روڈ نے وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں پاک امریکا دفاعی تعلقات اورخطے میں امن وامان کی مجموعی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی انڈرسیکرٹری دفاع نے وزیرخارجہ کوپاک امریکا دفاعی تعاون کی موجودہ نوعیت سے آگاہ کیا اوروزیرخارجہ نے انہیں پاکستان کی جانب سے جنوبی ایشیائی خطے میں قیام عمل کیلئے کی جانے والی مختلف کاوشوں سے آگاہ کیا۔ دونوں نے ایران امریکا کشیدگی میں کمی لانے اورخطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی جانب سے متحرک اورمثبت کردارادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس متعلق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اورامریکا کے مابین دفاعی اورسیکورٹی تعاون، ہمارے دو طرفہ تعاون کی اہم کڑی ہے، پاکستان نے اسی لئے کشیدگی کم کرنے اورامن کاوشیں بروئے کارلانے کا فیصلہ کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پورے خطے کیلئے خطرات کا موجب بن سکتی ہے، امریکا کی جانب سے بین الاقوامی عسکری تعلیم و تربیت پروگرام کی بحالی کا فیصلہ ہمارے نزدیک بہت اہمیت کا حامل ہے، اس فیصلے سے دونوں ممالک کے مابین عسکری تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔
قبل ازیں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کشمیر میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارتی فوج پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتی ہے، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
واشنگٹن میں سینٹر برائے اسٹریٹجک اور انٹرنیشنل اسٹڈیز میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان امریکا تعلقات انتہائی اہم ہیں، پاکستان امریکا اور ایران میں کشیدگی کم کرانا چاہتا ہے، فریقین کشیدگی بڑھانے والا کوئی قدم نہ اٹھائیں، ترقی کے حصول کے لیے امن کے خواہاں ہیں، پاکستان خطے میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، افغانستان میں امن کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا آر ایس ایس بھارت کو ہندو ریاست بنا رہی ہے، مسئلہ کشمیر اب تک سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر حل طلب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *