مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر امریکی اراکین کانگریس متحرک

واشنگٹن: (پاکستان فوکس آن لائن) مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف امریکی کانگریسی اراکین متحرک ہو گئے ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے امریکہ میں بھارتی سفیر ہریش وردھان کو خط لکھ دیا ہے۔
امریکی کانگریس اراکین نے کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے متعلق امریکا میں تعینات بھارتی سفیر سے سخت سوالات کے جواب مانگ لیے۔کشمیر سے متعلق فراہم کردہ بھارت کی معلومات شواہد سے مختلف ہونے پر امریکی کانگریس ارکان نے واشنگٹن میں بھارتی سفیر کو خط لکھ کر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ امریکی کانگریس ارکان کا کہنا ہے کہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے حوالے سے ہمارے لوگوں کو خدشات ہیں، برائے مہربانی چند سوالات کے جواب دیں۔اراکین کانگریس اینڈی لیون، جیمزمک گورن اور سوزین وائلڈ کی جانب سے لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال سےآگاہ کیاجائے ساتھ ہی گرفتار کشمیری بچوں کی تعداد سےمتعلق بھی آگاہ کیا جائے۔
خط کے متن کے مطابق اراکین نے استفسار کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں فون اور انٹرنیٹ سروس کب مکمل بحال ہوگی؟ 5اگست سے اب تک کتنے کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ہے؟ اور یہ کہ کیا بھارتی حکومت امریکی ارکان کانگریس کو وادی جانےکی اجازت دے گی؟
امریکی اراکین کانگریس نے مقبوضہ وادی میں جاری کرفیو سے پیدا ہونے والی صورت حال سے متعلق دیگر سوالات بھی اٹھائے ہیں جو کہ یہ ہیں کہ کرفیو کی پابندی اور نرمی کےبارے میں آگاہ کیا جائے، کیا بھارتی حکام مقبوضہ وادی میں غیرملکی صحافیوں اور امریکی اراکین کا خیرمقدم کریں گے؟ پرامن مظاہرین کےحقوق کیلیے بھارت کیا اقدامات کر رہا ہے؟ کیابھارتی حکام بچوں سمیت نابینا ہونے والے کشمیریوں کی تعداد بتا سکتے ہیں؟خط میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا اب بھی مقبوضہ وادی میں ربڑکی گولیاں استعمال کی جارہی ہیں؟ اور یہ کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار افراد کو کس قانون کے تحت عدالت میں پیش کیا جائےگا؟امریکی اراکین کی جانب سے امید بھی ظاہر کی گئی ہے کہ مقبوضہ وادی میں غیر ملکی صحافیوں اور نمائندوں کو جانے کی اجازت ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *