کراچی میں ہیٹ ویو کے اثرات، شہر کا موسم شدید گرم، سمندری ہوائیں رک گئی

کراچی: (پاکستان فوکس آن لائن)کراچی کو گرم اور خشک میدانی ہواؤں نے لپیٹ میں لے لیا جب کہ شہر کا درجہ حرارت بڑھنے سے ہیٹ ویو کے اثرات محسوس ہونے لگے۔محکمہ موسمیات نے یکم سے 3 مئی تک شہر میں ہیٹ ویو کی وارننگ جاری کی ہے جس کے تحت شہر میں آج سے ہی موسم شدید گرم اور خشک ہوچکا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی گرم اور خشک میدانی ہواؤں کی لپیٹ میں ہے، شہر میں سمندری ہوائیں معطل ہوگئی ہیں، دن 2 بجے شہر کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی تک پہنچ گیا جو 41 ڈگری تک جاسکتا ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہےکہ شہر میں بلوچستان سے آئی گرم ، خشک اور گرد آلود ہوائیں چل رہی ہیں جب کہ ہوا میں نمی کا تناسب 12 فیصد ہے۔ سورج کا پارہ چڑھتا دیکھ کر محکمہ صحت نے سندھ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی، طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی میں شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں، پانی زیادہ پئیں۔سورج کے تیور کیا بدلے، گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ محکمہ موسمیات نے ہیٹ ویو کے خطرے کی گھنٹی بجا دی تو محکمہ صحت نے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے فوری انتظامات کی ہدایت بھی کردی۔
ہیٹ ویو سے متاثر ہونے کی علامات
جسم میں پانی کی کمی
گرم و خشک موسم
گرم موسم میں سخت مشقت یا ورزش
دھوپ میں براہ راست بہت زیادہ گھومنا
گھر سے باہر کام یا آؤٹ ڈور ورکنگ
غشی طاری ہونا
جسم سے پسینے کا اخراج رک جانا
دل کی دھڑکن بہت زیادہ بڑھ جانا
جلد سرخ، گرم اورخشک ہوجانا
ہیٹ اسٹروک کے نتیجے میں لاحق ہونے والی ایمرجنسی جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے تاہم اس کی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔ جسمانی درجہ حرارت 104 فارن ہائیٹ ہوجانا۔

ایسے میں کیا کرنا چاہئے؟
سب سے پہلے تو ایمبولینس کوطلب کریں یا متاثرہ شخص کو خود ہسپتال لے جائیں (طبی امداد میں تاخیر جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے)۔ ایمبولینس کے انتظار کے دوران مریض کو کسی سایہ دار جگہ پر منتقل کردیں۔

مریض کو فرش پر لٹا دیں اوراسکے پیر کسی اونچی چیز پر رکھ دیں (تاکہ دل کی جانب خون کا بہاؤ بڑھ جائے اور شاک کی روک تھام ہوسکے)۔
مریض کے کپڑے ٹائٹ ہوں تو ان کو ڈھیلا کردیں۔
مریض کے جسم پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں یا ٹھنڈے پانی کا اسپرے کریں۔
پیڈسٹل پنکھے کا رخ مریض کی جانب کردیں تاہم بجلی نہ ہو تو اخبار سے خود مریض کو ہوا دیں۔
اس سے ہٹ کر بھی گھر سے باہر نکلتے ہوئے پانی کی بوتل اپنے پاس رکھیں چاہے روزہ ہی کیوں نہ ہو اور طبیعت بگڑنے پر فوری پانی کا استعمال کریں کیونکہ روزے کا کفارہ ہوسکتا ہے مگر جان پھر واپس نہیں آسکتی۔
یاد رہے کہ پاکستان میں 4 سال قبل 2015 میں 50 سال کی بدترین گرمی کی لہر آئی تھی جس کے نتیجے میں اس گرمی سے صرف کراچی میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور 40 ہزار افراد ہیٹ اسٹروک اور گرمی کی وجہ سے تھکان کا شکار ہوئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *