پنجاب پولیس کے شہریوں پر تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ

وزیراعلیٰ پنجاب ،آئی جی پنجاب کے تمام نوٹس بے سود

لاہور: (پاکستان فوکس آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب کے تمام نوٹس بے سود ثابت ہورہے ہیں، پنجاب پولیس اہلکاروں کے عوام سے بدتمیزی کے واقعات مسلسل جاری ہیں۔
پنجاب پولیس کے عقوبت خاتوں اور مبینہ ٹارچر سیلوں میں زیر حراست ملزمان پر تشدد اور معمر افراد کے ساتھ بدسلوکی کے ایک کے بعد ایک واقعات سامنے آ رہے ہیں۔تازہ ترین واقعے میں وہاڑی میں پولیس کے مبینہ نجی ٹارچر سیل میں خاتون پر تشدد کی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ پولیس نے اسے سونا چوری کے الزام میں گرفتار کیا اور دوران حراست شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
وہاڑی میں خاتون پر تشدد کرنے والے پولیس افسروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ ڈی ایس پی ،ایس ایچ اور اورسی آئی اے انچارج کو گرفتارکرکے حوالات میں بند کرکے تھانہ لڈن کوسیل کردیا گیا۔ ملزم ایاز خان دولتانہ اوراس کے دو بیٹوں اور منیجر کوبھی پکڑلیا گیا۔ ابتدائی طبی رپورٹ کے مطابق خاتون جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں جب کہ پسلیوں کے ایکسرے بھی کروائے جارہے ہیں۔
وہاڑی میں خاتون پرتشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد کےخلاف مقد مہ درج کرلیا گیا۔ ڈی ایس پی راو طارق، ایس ایچ او عارف شاہ ، انچارج سی آئی اے امجد خان، محرر سی آئی اے ،ایازدولتانہ کے دوبیٹوں اور ملازم سمیت 8 افراد کو گرفتارکرلیا گیا۔
تھانہ لڈن کے پولیس اہلکاروں طاہر چوہان اور حاجی یونس نے ایاز دولتانہ کے ہاں چوری کے مقدمے کےالزام میں محلہ امام بارگاہ سے ظہورالہی نامی غریب خاتون کو اٹھایا اور نجی ٹارچر سیل لے گئے، جہاں پولیس اہلکار خاتون کو دو روزتک تشدد کا نشانہ بناتے رہے،کرنٹ بھی لگایاگیا۔پولیس اہلکاروں نے کسی بھی کارروائی سے باز رکھنے کے لئے خاتون کے ورثاء سے 10 کروڑو روپے کا پرونوٹ بھی لیا، جس کے بعد خاتون کوگھر کے باہر پھینک دیا گیا ،ایکسپریس نیوز پر خبرنشر ہونےپرآرپی او وسیم احمد خان وہاڑی پہنچے اورمتاثرہ خاتون کی ایف آئی آر درج کرائی۔دوسری طرف آئی جی پنجاب کے حکم پر ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی،آئی جی پنجاب نےدوسرےملزموں کوبھی فوری پکڑنےکاحکم دیاہے۔
دوسری جانب پنجاب لاہور میں شمالی چھاؤنی پولیس کی حراست میں عامر مسیح کی ہلاکت کا معاملہ مزید سنگین ہو گیا، پورسٹ مارٹم رپورٹ نے پولیس اہلکاروں کے مبینہ بہیمانہ تشدد کے سارے پول کھول رکھ دئیے۔مقتول عامر مسیح کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کی تصدیق ہوگئی۔ جس کے مطابق عامر مسیح کے جسم کے مختلف حصوں ، دونوں ہاتھوں اور پاؤں پر تشدد کے نشانات تھے، کمر اور بازوں پر بھی تشدد کے گہرے نشانات پائے گئے۔ عامر مسیح کی پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عامر مسیح پر بہیمانہ تشدد کیا گیا، کند آلے سے بھی مارا گیا جس کے نشانات مقتول کے جسم پر تھے۔ عامر مسیح ہلاکت کیس میں ملوث انچارج انویسٹی گیشن مرزا ناصر بیگ ، تفتیشی سب انسپکٹر ذیشان اور کیس کا مدعی رانا حنیف بھی گرفتار کر لیا گیا ۔ واقعے میں چار نامعلوم پولیس اہلکار بھی ملوث تھے،انچارج انویسٹی گیشن کے بیان پر مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔پولیس کے مطابق عامر مسیح شمالی چھاؤنی انویسٹی گیشن پولیس کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہوا تھا۔ جسکی تحقیقات جاری ہے ، فرائض میں غفلت برتنے پر ایس پی محمد عاصم اور ڈی ایس پی اشتیاق احمد کو بھی عہدوں سے ہٹا یا جا چکا ہے۔
ادھر وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کے تمام نوٹس بے سود ثابت ہورہے ہیں، پولیس اہلکاروں کے عوام سے بدتمیزی کے واقعات جاری ہیں۔ پاکپتن سے بھی فوٹیج سامنے آ گئی۔ دربار حضرت بابا فرید الدین گنج شکر پر بزرگ شہری سے بدتمیزی کرنے والے سب انسپکٹر اعجاز احمد کو معطل کردیا گیا۔ پولیس اہلکار بزرگ شہری کو گھسیٹتا رہا۔ کچھ پوچھنے پر چھڑی سے مارنے کی کوشش بھی کی۔

وہاڑی میں خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے والے پولیس اہلکار۔ فوٹو: پنجاب پولیس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *