ملک لوٹنے والوں پر رحم اور معاف نہیں کرسکتا، وزیراعظم

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے جب پاکستان ریاست مدینہ کی طرح بنے ہم زندہ نہ ہوں۔عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر اسلام آباد میں منعقد انٹرنیشنل رحمۃ اللعالمینﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ نیا پاکستان اور ریاست مدینہ کی طرز پر پاکستانی ریاست کب بنے گی؟ میں ان سے کہتا ہوں کہ مدینہ کی ریاست پہلے دن ہی نہیں بن گئی تھی، ہوسکتا ہے جب پاکستان ریاست مدینہ کی طرح بنے ہم زندہ نہ ہوں۔
ریاست مدینہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بنیاد پرصدیوں تک مسلمان دنیا پر چھائے رہے ہیں۔ اس کی بات کرنامیری ذاتی زندگی کاتجربہ ہے، یہ ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، کم سے کم ہم اس راستے پر چل تو پڑیں۔انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ جیسے جیسے مجھے موقع ملے گا میں مدینہ کی ریاست کے اصول ملک میں لاتا رہوں گا۔
اس حوالے سے وزیراعظم نے مزید کہا کہ ریاست مدینہ کی باتیں میں نےالیکشن سے پہلے نہیں بعد میں کیں کیونکہ میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ لوگ سمجھیں کے ووٹ کے لیے ریاست مدینہ کی بات کر رہا ہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک لوٹنے والوں پر رحم اور انہیں معاف نہیں کرسکتا کیونکہ این آر او دے دے کر معاشرے کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں مجھ میں رحم نہیں اور مجھے چاہیے کہ جن بدعنوانوں نے ملک کو قرضوں میں ڈبو کر کنگال کردیا انہیں معاف کردوں، لیکن انہیں معاف کرنا اور ان پر رحم کرنا میرا کام نہیں، کرپٹ لوگوں نے میرے نہیں قوم کے پیسے چوری کئے ہیں، این آر او دے دے کر تو ہم نے معاشرہ کا بیڑہ غرق کردیا ہے، رحم کمزور اور غریب طبقے کے لیے ہوتا ہے، بڑے ڈاکوؤں پر رحم نہیں ہوتا، آپ ﷺ نے بھی کرپٹ لوگوں کو عبرت ناک سزائیں دیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لوگ دنیا میں رول ماڈلز ڈھونڈتے ہیں، اسکول میں مجھے کبھی نہیں سکھایا گیا کہ ہمارے رول ماڈل نبی اکرمﷺہونے چاہئیں، ہماری تعلیم ہمیں نبی اکرمﷺ کی طرف نہیں لے کر گئیں، اسکول میں کوئی اور رول ماڈل تھے، فلمی اداکاروں، گلوکاروں اور کھلاڑیوں کو رول ماڈل سمجھا جاتا تھا، ہم تعلیمی نظام ٹھیک کریں گے اور آپﷺکی جدو جہد کا بتائیں گے، چاہتے ہیں بچے بچے کو علم ہو حضور اکرمﷺنے معاشرے کو کیسے تبدیل کیا، افسوس کی بات ہے ہمارے ہاں اس بارے میں نہیں پڑھایا جاتا، ہمیں اپنے بچوں کو تاریخ کا مطالعہ کرانا ہوگا، مسلمان گھر میں پیدا ہوکر مسلمان کہلانا کافی نہیں۔وزیراعظم نے کہامیری زندگی کرکٹ کھیلتے ہوئے گزری، والدصاحب زبردستی جمعہ کی نماز پڑھنے لے جاتے تھے، میں نے اپنی زندگی کے تجربے سے سیکھا ہے، ریاست مدینہ پر زور دینا میری زندگی کا تجربہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ زندگی کا مقصد پیسہ کو بنانے سے انسان تباہ تباہ ہوجاتا ہے، پیسہ بنانا سب سے بڑی بت پرستی ہے، بڑاانسان اپنی ذات کیلئے زندگی نہیں گزارتا، نبی کریم نے اپنی وراثت میں جائیدادیں نہیں چھوڑیں، زندگی موت،زرق اور عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے، لوگ پوچھتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان اور مدینہ کی ریاست، وہ پہلے دن نہیں بن گئی تھی بلکہ طویل جدوجہد کا نام ہے، میرٹ پر ختم ہونا سب سے بڑی ناانصافی ہے، مدینہ کی ریاست میں سب سے اچھی چیز میرٹ ہے، اسی سے مدینہ نے ترقی کی، ہوسکتا ہے ہم اپنی زندگی میں نہ پہنچیں لیکن اس راستے پر چل پڑے ہیں، قوم ضرور پہنچے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *