بھارتی سازشیں ناکام: پاکستان ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ ہونے سے بچ گیا

پیرس: (پاکستان فوکس آن لائن) فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی بجائے فی الحال گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔فرانس کے دارلحکومت پیرس میں 13 اکتوبر سے جاری ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ختم ہو گیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے سربراہ نے مختصر پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی۔
ایف اے ٹی ایف کے صدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے مثبت اقدامات کیے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے صدر نے کہا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لیے 2020 تک کا ٹائم دیتے ہیں لہٰذا پاکستان کا نام فی الحال گرے لسٹ میں ہی رہے گا۔
ایف اے ٹی ایف نے پاکستانی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ معاملات مزید بہتر کرنے پاکستان کو فروری 2020 تک کا وقت دیا گیا ہےواضح رہےکہ ایف اے ٹی ایف کے جائزہ اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کی قیادت میں پاکستان کا 5 رکنی وفد شریک ہے۔بھارت کی جانب سے پاکستان کو بلیک لسٹ کیے جانے کی کئی کوششیں کی گئیں تاہم پاکستان کے مثبت اقدامات کی وجہ سے یہ بات پہلے ہی واضح ہوچکی تھی کہ پاکستان کے بلیک لسٹ میں جانے کا کوئی امکان نہیں۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خلیج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔ عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔خیال رہے کہ اس سے قبل 2012 سے 2015 تک بھی پاکستان ایف اے ٹی ایف واچ لسٹ میں شامل تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *