جو وزیرملک کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا،تبدیل کردیا جائےگا، وزیراعظم عمران خان

اورکزئی: (پاکستان فوکس آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو بھی وزیرکام نہیں کرے گا، اسے تبدیل کریں گے کیونکہ میچ جیتنے کے لیے ٹیم میں تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں۔ اورکزئی میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ٹیم کا بیٹنگ آرڈرتبدیل کرنا پڑتا ہے، اچھے کپتان نے میچ جیتنا ہوتا ہے اس لیے وہ اپنی ٹیم پر نظررکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی دفعہ اسے ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کو شامل کرنا پڑتا ہے، وزیراعظم کا مقصد ہوتا ہے کہ اپنی قوم کو میچ جتواوں، میں اللہ کو جوابدہ ہوں کہ میں اپنے کمزور لوگوں کو اٹھاوں۔ میں نے اسی لیے ٹیم میں تبدیلی کی ہے، آگے بھی کروں گا۔عمران خان نے کہا اس وزیر کو لے کرآوں گا جو عوام کے لیے کام کرے گا۔ ملک کا سربراہ ہونا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قبائل کا بہت نقصان ہوا، جتنا میں قبائلیوں کو جانتا ہوں اتنا کوئی نہیں جانتا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر اکسانا اور پھر کوئی حل نہ پیش کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے رجسٹریشن کی ہوئی ہے جن کے گھر تباہ ہوئے انہیں پیسے دیں گے اور خیبرپختونخوا کی حکومت پوری پوری مدد کرے گی۔عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت اورکزائی میں سیاحت کو فروغ دیں گے جس سے نوجوانوں کو روزگار ملےگا، ہماری 60 فیصد آبادی نوجوان ہے، ہماری پوری کوشش ہوگی کی قبائلی علاقوں کو اوپر اٹھائیں اور نوجوانوں کو روزگار دیں۔عمران خان نے کہ پاکستان میں پہلی بار ایک حکومت نے کوشش کی ہے کہ سارے قبائلی علاقوں میں ہیلتھ کارڈ دیں، ہم ہر خاندان کو سات لاکھ بیس ہزار روپے علاج کیلئے دیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ کسی حکومت نے مدرسے کے بچوں کی کبھی پروا نہیں کی، مدرسے کے بچے میرے بچے ہیں 26 لاکھ بچے مدارس میں پڑھتے ہیں ہم مدارس پر بھی توجہ دیں گے۔ان کا کہنا تھا سوال یہ ہے کہ آٹھ ماہ میں اتنا بڑا کیا جرم کیا ہے کہ یہ کہتے ہیں ہم نے حکومت گرانی ہے، جس ملک کے حکمران کرپٹ ہوں اس کا مستقبل خطرے میں پڑجاتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ میرے سامنے روزانہ ان کی فائلیں آرہی ہیں، اگر میں دوسال بھی رہا تویہ سارے جیل چلے جائیں گے، یہ جمہوریت کو نہیں خطرہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کے لوگوں نے چالیس سال لوگوں نے جنگ دیکھی ہے، میں ان کے لیے امن کی دعا کرتا ہوں، اور کوئی مشورہ نہیں دوں گا کہ وہ کہتے ہیں مداخلت کرتے ہیں، شوکت خانم کو بھی کہوں گا کہ وہ افغانستان میں علاج کے لیے وہ بھی کچھ انتظام کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *