مسئلہ کشمیر پر فرانس کا بھارت پر مذاکرات کیلئے زور

کشمیر کا حل پاکستان اور بھارت مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں، فرانس

پیرس: (پاکستان فوکس آن لائن)فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کی جس میں انہوں نے جی 7 سمٹ کے حوالے سے تبادلہ کیا اور ساتھ ہی مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے مذاکرات پر بھی زور دیا۔
فرانس کے صدر امانوئیل مکخواں نے پاکستان اور بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا حل دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کی ساری توجہ اس جانب مبذول ہے کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں شہری آبادی کے حقوق کا تحفظ ہو اور ان کے مفادات پہ ضرب نہ لگے۔ اس ضمن میں انہوں نے لائن آف کنٹرول کا حوالہ دیا۔
عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق افرانس کے صدر نے یہ بات چیت بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران کی۔ بھارت کے وزیراعظم گزشتہ روز پاکستان کی فضائی حدود سے گزر کر فرانس پہنچے ہیں۔ ان کا طیارہ دو گھنٹے تک پاکستان کی حدود میں محو پرواز رہا تھا۔خبررساں ادارے کے مطابق نریندر مودی نے فرانس کے صدر سے ملاقات کی۔ ملاقات جی -7 کے سربراہ اجلاس سے قبل ہوئی۔ بھارت جی-7 گروپ کا باقاعدہ رکن نہیں ہے۔ جی-7 سربراہ اجلاس میں میں دفاعی اور کاروباری معاہدے خاصی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کے صدر اور بھارتی وزیراعظم کے دوران ہونے والی ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی لیکن نریندر مودی نے جب ذرائع ابلاغ سے گفتگو کی تو اس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کا کوئی ذکر نہیں کیا۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق فرانس کے صدر امانوئیل مکخواں نے بات چیت میں زور دے کر کہا کہ مسئلہ کشمیر دو طرفہ بنیادوں پر حل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں فریقین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حالات کو خراب ہونے سے بچائیں کیونکہ اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
امانوئیل مکخواں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے بھی بات چیت کریں گے۔فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور بھارت اس کا دفاعی ساز و سامان کا بڑا خریدار ہے لیکن گزشتہ دنوں جب سلامتی کونسل کا اجلاس مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہوا تو اس نے بھارت کی قطعی حمایت نہیں کی جو عالمی سیاسی مبصرین کے لیے خوشگوار حیرت کا سبب تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *