کاف کنگنا کے آئٹم سانگ پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی وضاحت

راولپنڈی: (پاکستان فوکس آن لائن)فلم ’کاف کنگنا‘ میں اداکارہ نیلم منیر کے آئٹم گانے اور گلوکارہ حمیرہ ارشد کے شو سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے وضاحت پیش کر دی۔
حال ہی میں نیلم منیر نے انسٹاگرام پر فلم ’کاف کنگنا‘ میں آئٹم گانے پر پرفارم کرنے کی ویڈیو شیئر کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ یہ ان کا پہلا اور آخری آئٹم گانا ہوگا۔علاوہ ازیں انہوں نے بتایا تھا کہ اس گانے پر پرفارم انہوں نے اس لیے کیا کیونکہ یہ آئی ایس پی آر کا پروجیکٹ ہے اور ملک کے لیے ان کی جان ہمیشہ حاضر ہے۔

اداکارہ کا آئٹم نمبر دیکھنے کے بعد متعدد مداحوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا، کچھ نے اس پر پسندیدگی ظاہر کی جب کہ کچھ نے کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ آئی ایس پی آر کی فلم میں آئٹم گانا کیوں ہے؟
نیلم منیر کے آئٹم گانے کے علاوہ سوشل میڈیا پر آئی ایس پی آر کے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں گلوکارہ حمیرہ ارشد کے شو کے بھی چرچے جاری تھے جس پر ایک کشمیری صارف نے میجر جنرل آصف غفور سے پوچھا کہ ’اگر یہ سچ ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے، یہ ستم ظریفی دیکھ کر۔ایسے میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ان کا جواب دیتے ہوئے فلم میں آئٹم گانے اور گلوکارہ کے شو کی وضاحت سب سے شیئر کر دیں۔ترجمان پاک فوج نے لکھا کہ فلم میں کردار کے مطابق آئٹم گانا بھارتی لڑکی کی جانب سے کیا گیا ہے جس کو سمجھنے کے لیے فلم دیکھنا ہو گی۔

ایونٹ کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ جنرل ہیڈ کوراٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں نہیں ہوا (جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہے اسلام آباد میں نہیں) اور نا ہی یہ اس ایونٹ کا اہتمام آئی ایس پی آر کی جانب سے کیا گیا۔
واضح رہے کہ ’خوابوں میں جب پاکستان گئی رے، انڈیا میں بولے ساڈی جان گئی رے‘ گانے کو معروف موسیقار ساحر علی بگھا نے کمپوز کیا ہے جب کہ عائمہ بیگ نے اس میں اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔فلم ’کاف کنگنا‘ میں جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی تنازع مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو پیش کیا گیا ہے وہیں اس میں دونوں ممالک کے لڑکے اور لڑکی کے درمیان محبت کو بھی دکھایا گیا ہے۔فلم میں پاکستانی لڑکے کا بھارتی لڑکی سے رومانس اور لڑکی کے اہل خانہ کی جانب سے اس کی مخالفت کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔’کاف کنگنا‘ کو رواں ماہ 25 اکتوبر کو ریلیز کیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *