شہزادہ چارلس کو 104 ملین پاؤنڈز کی جعلی پیٹنگز فروخت

برطانیہ کے شہزادہ چارلس کے پسندیدہ سرکاری مکانات میں سے ایک مکان میں لگی 6 کروڑ 46 لاکھ 79 ہزار 950 ڈالرز مالیت کی پینٹنگز جعلی نکلیں۔ڈم فریز ہاؤس ’دی پرنس فاؤنڈیشن‘ کا صدر مقام ہے جہاں ان قیمتی فن پاروں کو عوامی نمائش کے لیے لگایا گیا تھا لیکن جعل سازی کا آرٹ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد اِن پینٹنگز کو ہٹا دیا گیا ہے۔
مصوری کے دلدادہ شہزادہ چارلس کو عظیم فرانسیسی مصور پکاسو کے نام پر جعلی پینٹنگز بنا کر 104 ملین پاؤنڈز میں فروخت کردی گئیں تاہم یہ فریب زیادہ دیر نہیں چل سکا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مصوری کو دل و جان سے چاہنے والے شہزادہ چارلس ’واٹر کلر پینٹنگ‘ کے دیوانے ہیں، انہوں نے اپنے نام سے منسوب ’ڈمفرائز ہاؤس‘ میں مصوری کے کئی شاہکار نمونے آویزاں کر رکھے ہیں اس کے علاوہ وہ ’رائل واٹر کلر اکیڈمی‘ کے ممبر بھی ہیں تاہم اس بار وہ چوک کھا گئے۔
شہزادہ چارلس کے فاؤنڈیشن نے بینک سے دیوالیہ ہونے والے تاجر جیمز اسٹنٹ سے فرانس کے شہرہ آفاق مصور پکاسو کی پینٹگز 104 ملین برطانوی پاؤنڈز میں خریدیں اور کچھ عرصے تک یہ تصاویر ڈمفرائز پاؤس کی زینت بھی بنی رہیں تاہم ماہرین نے تصدیق کے بعد ان پیٹنگز کو جعلی قرار دے دیا، اسکینڈل کے بعد ان تصاویر کو ہٹا دیا گیا ہے۔
ادھر ایک امریکی جعل ساز ٹونی ٹیٹرو نے پکاسو کی جعلی پینٹنگ بناکر جیمز کو فروخت کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا کہ جیمز کو معلوم تھا کہ یہ پینٹنگز میری بنائی ہوئی ہے بعد میں جیمز نے یہ تصاویر شہزادہ چارلس کو بیچ دیں، ٹونی ٹیٹرو اس سے قبل بھی دھوکا دہی پر 6 ماہ کی قید کاٹ چکا ہے۔
دوسری جانب جیمز اسٹنٹ نے موقف اختیار کیا شہزادہ چارلس کی فاؤنڈیشن کو دی جانے والی تمام پینٹنگز اصلی ہیں اور وہ اس سے قبل بھی شہزادہ چارلس کو تصاویر فروخت کرچکے ہیں۔ برطانوی حکومت کی جانب سے دھوکہ دہی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *