وزیراعظم عمران خا ن نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا

نارووال: (پاکستان فوکس آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری اور دنیا کے سب سے بڑے گوردوارے دربار صاحب کا افتتاح کردیا۔کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سکھ مت کے بانی بابا گرونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سمیت دنیا بھر سے سیکڑوں سکھ یاتری پہنچے، بھارت سے کوریڈور کے راستے 550 سے زائد یاتریوں کا جتھہ گوردوارہ دربار صاحب پہنچا۔ جتھے میں سابق وزیراعظم من موہن سنگھ، بھارتی پنجاب کے وزیراعلی امریندر سنگھ، وفاقی وزیر ہرسمرت کور بادل اور ہردیپ پوری، فلم اداکار اور گرداس پور پارلیمانی حلقہ سے رکن لوک سبھا سنی دیول سمیت متعدد ممبران پارلیمان اور اراکینِ اسمبلی شامل ہیں جب کہ واہگہ بارڈر سے آنے والے سکھ یاتریوں اور میڈیا نمائندے بھی کرتارپور پہنچے۔راہداری کی افتتاحی تقریب گوردوارے کے احاطے میں ہوئی جس میں سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ، کانگریس رہنما نوجوت سنگھ سدھو، بی جے پی کے رہنما اور بھارتی اداکار سنی دیول اور بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ سمیت دیگر اہم شخصیت کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
وزیراعظم عمران خان گوردوارے میں پہنچے جہاں انہوں نے منموہن سنگھ اور دیگر شخصیات سے مصافحہ کیا جب کہ وہ سابق کرکٹر اور کانگریس رہنما نوجوت سنگھ سدھو سے گلے ملے۔
تقریب سے خطاب کے دوران بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ 72سال میں سکھوں کی آواز کسی نے نہیں سنی تھی، ہر وزیراعظم اپنا نفع نقصان دیکھتا رہا،سکھوں کی 4 پشتیں اپنے باپ سے ملنے کے لیے ترستی رہیں، عمران خان وہ سکندر ہیں جو لوگوں کے دلوں میں راج کرتے ہیں، وزیراعظم عمران خان کا دل سمندر جتنا بڑا ہے، عمران خان نے سکھوں کی خواہش کو پورا کیا، سکھ قوم نے عمران خان کو وہاں لے جانا ہے جہاں کسی کی سوچ بھی نہیں جاسکتی۔
کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سکھ برادری کو بابا گرونانک کی 550 ویں سالگرہ کی مبارکباد دیتا ہوں۔راہداری کی قلیل مدت میں تعمیر پر عمران خان نے کہا کہ اندازہ نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی قابل ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہم اور کام کرسکتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سدھو نے آج دل سے شاعری کی، دل میں اللہ بستا ہے، آپ کسی کو بھی خوشی دیتے ہیں تو آپ رب کو خوشی دیتے ہیں ، خدا سارے انسانوں کا ہے، اللہ کے ہر پیغمبر نے انصاف اور انسانیت کی بات کی، گرونانک نے بھی انسانیت کی بات کی۔عمران خان نے مزید کہا کہ مجھے کرتارپور کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا، مجھے سال پہلے پتا چلا اس کی اہمیت کیا ہے، یہ ایسے ہے جیسے ہم مدینہ کو چار پانچ کلو میٹر سے دیکھ سکیں لیکن جا نہ سکیں، اس پر مسلمانوں کو کتنی تکلیف ہوگی، یہ دنیا کی سکھ برادری کا مدینہ ہے جہاں آپ لوگوں کو دیکھ کر خوشی ہورہی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لیڈر نفرتیں نہیں پھیلاتا اور جو نفرت پھیلاکر ووٹ لیتا ہے وہ لیڈر نہیں ہوتا، ہم ہمسایوں کی طرح بات چیت کرکے اپنا مسئلہ حل کرسکتے ہیں، جب منموہن سنگھ وزیراعظم تھے تو انہوں نے کہا کہ تمام برصغیر اٹھ سکتا ہے، بس ہم کشمیر کا مسئلہ حل کریں اور میں نے یہی بات مودی کو کہی کہا کہ ہم یہ مسئلہ کیوں حل نہیں کرتے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے آج جو کشمیر میں ہورہا ہے یہ زمینی مسئلے سے اوپر نکل گیا اور یہ انسانی حقوق کا مسئلہ بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 80 لاکھ لوگوں کے سارے انسانی حقوق ختم کرکے 9 لاکھ فوج کے ذریعے بند کیا ہوا ہے، یہ انسانیت کا مسئلہ ہے، جو حق اقوام متحدہ نے انہیں دیا وہ چھین لیا، اس طرح کبھی امن نہیں ہوگا، اس وجہ سے سارے تعلقات رکے ہوئے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مودی اگر میری بات سن رہے ہیں تو سنیں انصاف سے امن ہوتا ہے نا انصافی سے انتشار پھیلتا ہے، کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں اور برصغیر کو آزاد کردیں، ہمیں اس مسئلے سے آزاد کریں تاکہ ہم انسانوں کی طرح رہ سکیں، سوچیں بارڈر کھلے گا اور تجارت ہوگی تو کتنی خوشحالی آئے گی، ہم کیسے لوگوں کو غربت سے نکال سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خوشی ہے آپ کے ساتھ یہ دن منایا، اندازہ لگاسکتے ہیں آپ کے دل میں کس طرح کے تاثرات ہوں گے، امید ہے یہ ایک شروعات ہے، انشا اللہ اگر ہمارا کشمیر کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے تو ایک دن ہمارے تعلقات اور حالات بھارت سے وہ ہوں گے جو ہونے چاہیے تھے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ دیکھ رہا ہوں کہ 70 سال سے اس مسئلے کے حل نہ ہونے کی وجہ سے نفرتیں ہیں لیکن جب مسئلہ کشمیر حل ہوجائے گا تو انشاءاللہ برصغیر میں بھی خوشحال آئے اور خطہ اٹھ جائے گا، انشاءاللہ وہ دن دور نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *