شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ نے شاہی زندگی چھوڑ دی

برطانوی شاہی جوڑے کا شاہی حیثیت چھوڑنے کا اعلان

لندن: (پاکستان فوکس آن لائن) برطانوی شاہی خاندان کے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے شاہی حیثیت کو چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے ملکہ برطانیہ سمیت پوری دنیا کو حیران کردیا۔برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق شاہی جوڑے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اب شمالی امریکا میں گزاریں گے اور خودمختار ہونے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال شہزادہ ہیری اور میگھن کے لیے کافی سخت ثابت ہوا کیوں کہ بڑے بھائی شہزادہ ولیم کے ساتھ اختلافات سمیت میڈیا میں کئی اور متنازع خبریں بھی سامنے آئیں اور یہی وجہ ہے کہ شہزادہ ہیری نے اعلان کیا کہ وہ کچھ شاہی فرائض جاری رکھیں گے البتہ مالی طور پر آزاد ہونے کے بعد نیا خیراتی ادارہ شروع کریں گے۔شاہی جوڑے نے اپنی ویب سائٹ اور انسٹاگرام پر جاری اپنے بیان میں اعلان کیا کہ ‘کئی ماہ تک غور و فکر اور باہمی تبادلے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ ہم شاہی حیثیت سے دستبردار ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ ‘ہم دونوں مالی طور پر خود مختار ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ہم ملکہ برطانیہ کی مکمل معاونت اور حمایت جاری رکھیں گے۔اپنے بیان مین شاہی جوڑے نے لکھا کہ وہ برطانیہ اور شمالی امریکا میں اپنا وقت گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم وہ ‘ملکہ برطانیہ، دولت مشترکہ اور شاہی خاندان کی سرپرستی میں اپنے فرائض کی انجام دہی اور ان کا احترام کرتے رہیں گے۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ ’یہ جغرافیائی توازن ہمیں اپنی شاہی روایت کی تعریف کے ساتھ اپنے بیٹے کی پرورش کرنے کے قابل بنائے گا جس میں وہ پیدا ہوا تھا اور ساتھ ہی ہمارے اہل خانہ کو اگلے باب پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کرے گا جس میں ہمارے نئے خیراتی ادارے کا آغاز بھی شامل ہے۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں شہزادہ ہیری نے اپنے بڑے بھائی شہزادہ ولیم سے اختلافات کا اعتراف بھی کیا تھا۔دوسری جانب بکنگھم پیلس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ‘ڈیوک اور ڈچز کے ساتھ ان کی شاہی حیثیت سے دستبرداری کے فیصلے پر بات چیت ابتدائی مرحلے میں تھی، ہم ان کے مختلف انداز اختیار کرنے کی خواہش کو سمجھتے ہیں لیکن یہ پیچیدہ معاملات ہیں جن پر کام کرنے میں وقت لگے گا‘۔
ادھر برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس بیان سے پہلے ملکہ برطانیہ یا شہزادہ ولیم سمیت کسی شاہی خاندان کے فرد سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا اور بکنگھم پیلس اس سے ’مایوس‘ ہے۔خیال رہے کہ ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری اور ڈچز آف سسیکس میگھن مارکل نے مئی 2018 میں شادی کی تھی۔
گزشتہ سال کرسمس کے دوران بھی شاہی جوڑے نے اپنے شاہی فرائض سے 6 ہفتوں کا وقفہ لیا تھا اور کینیڈا میں اپنے بیٹے شہزادہ آرچی کے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا۔

View this post on Instagram

“After many months of reflection and internal discussions, we have chosen to make a transition this year in starting to carve out a progressive new role within this institution. We intend to step back as ‘senior’ members of the Royal Family and work to become financially independent, while continuing to fully support Her Majesty The Queen. It is with your encouragement, particularly over the last few years, that we feel prepared to make this adjustment. We now plan to balance our time between the United Kingdom and North America, continuing to honour our duty to The Queen, the Commonwealth, and our patronages. This geographic balance will enable us to raise our son with an appreciation for the royal tradition into which he was born, while also providing our family with the space to focus on the next chapter, including the launch of our new charitable entity. We look forward to sharing the full details of this exciting next step in due course, as we continue to collaborate with Her Majesty The Queen, The Prince of Wales, The Duke of Cambridge and all relevant parties. Until then, please accept our deepest thanks for your continued support.” – The Duke and Duchess of Sussex For more information, please visit sussexroyal.com (link in bio) Image © PA

A post shared by The Duke and Duchess of Sussex (@sussexroyal) on

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *