وفاقی کابینہ نے نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن) وفاقی کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر بریفنگ دی گئی اور کابینہ نے اتفاق رائے سے اس کی منظوری دے دی۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ میں بتایا کہ ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس کا بنیادی مقصد پیسا اکٹھا کرنا نہيں بلکہ اثاثوں کو معیشت میں ڈال کر انہیں فعال بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ کوشش کی ہے کہ یہ اسکیم بہت آسان ہو ، تاکہ لوگوں کو دقت نہ ہو کیونکہ اس کے پیچھے فلسفہ لوگوں کو ڈرانا دھمکانا نہیں بلکہ قانونی معیشت میں حصہ ڈالنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم میں ہر پاکستانی حصہ لے سکے گا ،اگر ملک باہر کے اثاثے ڈکلیئر کیے جائيں گے تو شرط یہ ہے کہ وہ کسی بینک اکاؤنٹ میں رکھے جائيں ۔ملک سے باہر لے جائی گئی رقم پر چار فیصد دے کر انہيں وائٹ کیا جاسکتا ہے اور وہ رقم پاکستان کے بینک اکاؤنٹ میں رکھنا ہوگا تاہم اگر کوئی شخص رقم وائٹ کرواکر پاکستان سےباہر ہی رکھنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے وائٹ کرنے کی شرط چھ فیصد ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ 30جون تک اسکیم میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا ہے اور اس اسکیم میں ہر پاکستانی شہری حصہ لے سکتا ہے۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس اسکیم کے تحت بے نامی اثاثے اپنے نام کروائے جاسکتے ہیں، اسکیم کے تحت پاکستان کے اندر اور باہر تمام اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے۔حفیظ شیخ نے کہا کہ رئيل اسٹیٹ کی ویلیو ایف بی آر کی ویلیو سے 1.5 گنا زیادہ ہو۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بے نامی کا قانون پاس ہوا ہے جس کے تحت بے نامی اثاثے ظاہر نہ کرنے کی صورت میں ضبط کیے جا سکتے ہیں اس لیے یہاں پر سہولت دی جارہی ہے کہ بے نامی اثاثوں کو وائٹ کرلیا جائے اس سے پہلے کہ بے نامی کا قانون حرکت میں آجائے ۔ذرائع کا کہنا ہے وفاقی کابینہ سے منظوری پانے کے بعد ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا اور آج ہی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ایمنسٹی اسکیم کا آرڈیننس جاری کریں گے۔
غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے والوں کو ‘پاکستان بناؤ سرٹیفیکیٹ میں سرمایہ کاری کی سفارش
غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے والوں کو ‘پاکستان بناؤ سرٹیفیکیٹ میں سرمایہ کاری کی سفارش کی گئی جب کہ غیر ملکی اثاثے پاکستان واپس لانے کی بھی تجویز شامل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکیم کا اطلاق بے نامی بینک اکاؤنٹس پر بھی ہوگا جس کے تحت بے نامی اکاؤنٹس کی ٹرانزیکشن یکم جولائی 2017 سے 30 جون 2018 تک کی ٹرانزیکشنز کا اطلاق ہوگا۔ان ڈیکلیئر سیلز ظاہر کرنے پر 3 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔حفیظ شیخ نے بتایا کہ سال 2000 کے بعد سرکاری عہدہ رکھنے والے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے اور یہ اسکیم تمام افراد اور کمپنیوں پر لاگو ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *