جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے دیگر جماعتوں سے رابطے کرینگے، شاہ محمود

‘نیا صوبہ ملتان، بہاولپور ڈویژن اور ڈی جی خان کے اضلاع پر مشتمل ہوگا

ملتان: (پاکستان فوکس آن لائن) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ الیکشن 2018سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )نے جنوبی پنجاب صوبہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو تشخص دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اسی وعدے کی پاسداری کے لیے بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیاجسے کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔ملتان میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے منشور میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا عوامی مطالبہ شامل کیا تھا۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف نے اپنے وعدے پر پیشرفت کی ہے ۔ ایوان میں دوروز قبل بل پیش کیا ہے بل پر جنوبی پنجاب کے اراکین قومی اسمبلی نے دستخط کیے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا جنوبی پنجاب صوبہ بہاول پور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن پر مشتمل ہوگا۔نیا صوبہ بنے گا تو اس کے لیے نئی اسمبلی بھی بنے گی۔ پنجاب کی تقسیم کے بعد آبادی کی بنیاد پر سیٹوں کی تقسیم ہوگی ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو سینیٹ میں بھی نمائندگی دی جائیگی۔ بل میں جنوبی پنجاب صوبے کے لیے 120نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 106کے تحت جنوبی پنجاب کی نشستیں 120ہونگی۔ اس کے بعد پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 251رہ جائیگی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کی علیحدہ ہائیکورٹ بھی ہوگی۔ آئینی بل میں صوبے کے قیام کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دوتہائی اکثریت نہ ہونے کے باعث پی ٹی آئی بل پاس نہیں کراسکتی مگر نئے صوبے کے حق میں پیپلزپارٹی کا موقف بھی رہاہے ۔ جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے بل پر پیپلزپارٹی نے بھی مثبت جواب دیاہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کرینگے۔ خورشید شاہ ، نوید قمر اور راجہ پرویز اشرف سے مزید بات کرینگے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے چند ساتھی بھی جنوبی پنجاب صوبے کے حامی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *