افغان مہاجرین کانفرنس، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی تقریر میں ’سورہ توبہ‘ کا ذکر

قرآن کہتا ہے کہ ’’جو تم سے پناہ کا طالب ہو اسے پناہ دے دیا کرو‘‘

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ افغان مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے اپنی تقریر کا آغاز اسلام علیکم سے کیا۔اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس سمیت اہم ملکی اور عالمی شخصیات بھی موجود تھیں۔
انتونیو گوتریس نے اپنی تقریر کے دوران سورہ توبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کہتا ہے کہ ’جو تم سے پناہ کا طالب ہو اسے پناہ دے دیا کرو‘۔ان کا کہنا تھا کہ قرآن کریم میں پناہ سے متعلق بہت واضح بات کی گئی ہے اس الہامی کتاب نے پناہ کے حوالے سے مذہب کی بات نہیں کی۔ انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ مہاجیرن کو پناہ کے لیے پاکستان مقبول رہا ہے۔
پاکستان اور ایران مہاجرین کو پناہ دینے والے دنیا کے بڑے ممالک ہیں۔پاکستان کی مہاجرین کے لیے فراخ دلی دہائیوں پر مبنی ہے۔پاکستان نے افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔اس کی مہمان نوازی سے انکار نہیں۔افغان مہاجرین کے لیے عالمی امداد بہت اہمیت رکھتی ہے۔جب کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اندرونی مسائل کے باوجود افغان مہاجرین کو اسلامی اقدار کے مطابق پناہ دی۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان 30 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہترین ثقافتی اور مذہبی تعلقات ہیں۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلپو گرانڈی نےکو پاکستان میں 40 سال سے مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ40 سال سے پاکستان اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا ہے۔
پاکستان اور ایران نے انتہائی مشکل حالات میں لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی اور عالمی سطح پر رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کے 90 فیصد کے مساوی ان ممالک میں مقیم ہیں۔ پاکستان اور ایران پناہ گزینوں کی تعلیم، صحت اور مالیات کے شعبہ تک رسائی کے علاوہ دیگر سہولیات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں تاکہ وہ ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میزبان ملکوں کی حکومتوں اور عوام کی قربانیوں کو سراہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *