سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

کسی ایک نقطے پر ججز کا اتفاق ہو گیا تو فیصلہ آج سنا دیں گے، جسٹس عمرعطاء بندیال

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)سپریم کورٹ نے فریقین کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کی سماعت کی۔ کیس کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ مختصر بریک کے لئے جا رہے ہیں، 4 بجے دوبارہ عدالت لگے گی اور اگر کسی ایک نقطے پر ججز کا اتفاق ہو گیا تو فیصلہ آج سنا دیں گے۔دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسی نے منی ٹریل سے متعلق دستاویز جمع کرادیں اور جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے زرعی زمین اور پاسپورٹ کی نقول بھی جمع کرادیں۔
اس سے قبل جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے اپنا جواب الجواب مکمل کیا، ان کا کہنا تھا کہ الزام عائد کیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے جان بوجھ کر جائیدادیں چھپائیں جب کہ عدالتی کمیٹی کہتی ہے غیر ملکی اثاثے ظاھر کرنے سے متعلق قانون میں بھی ابہام ہے۔منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کبھی اہلیہ کی جائیدادیں خود سے منسوب نہیں کیں، الیکشن اور نیب قوانین میں شوہر اہلیہ کے اثاثوں پر جوابدہ ہوتا ہے، حکومت ایف بی آر جانے کے بجائے سپریم جوڈیشل کونسل آگئی، ایف بی آر اپنا کام کرے ہم نے کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی، جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنی اور عدلیہ کی عزت کی خاطر ریفرنس چیلنج کیا، چاہتے ہیں کہ عدلیہ جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف ریفرنس کالعدم قرار دے۔منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا کام صرف حقائق کا تعین کرنا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل صدر کے کنڈکٹ اور بدنیتی کا جائزہ نہیں لے سکتی، سپریم جوڈیشل کونسل نے افتخار چوہدری کو طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا جب کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے ٹی او آرز قانون کیخلاف ہیں، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی تشکیل کیلئے رولز میں ترمیم ضروری تھی، وزیر اعظم کو کوئی نیا ادارہ یا ایجسنی بنانے کا اختیار نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *