آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں وہ واحد مقررہ تھیں جنہوں نے قرارداد لاہور کو’’قراردادپاکستان‘‘ کہا تھا

 آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس   میں وہ واحد مقررہ تھیں جنہوں نے قرارداد لاہور کو’’قراردادپاکستان‘‘ کہا تھا

جسے1941 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ مدارس میں قرارداد لاہور کوقرارداد پاکستان ہی تسلیم کرلیاگیا تھا

بیگم مولانا محمدعلی جوہر( امجدی بانو)قرارداد پاکستان کا اہم نام

تحریر،جاویدپاشا

بیگم مولانا محمدعلی جوہر جن کا اصل نام امجدی بانو تھا۔ تحریک پاکستان کی پرجوش خاتون رہنما تھیں۔ بیگم مولانا محمدعلی جوہر نے نہ صرف خواتین بلکہ مردوں میں بھی جذبہ آزادی کی روح پھونکی، جس کی لہر میں برٹش سامراج خاص وخشاک کی طرح بہہ گیا۔ بیگم مولانا محمدعلی جوہر1885میں رامپور کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ بیگم مولانا محمدعلی جوہر کے والد عظمت علی خان ایک بلند عہدے پرفائز تھے۔امجدی بانو بچپن ہی میں ماں جیسی ہستی سے محروم ہوگئیں تھیں۔ امجدی بانو کی پرورش دادی اورپھوپھیوں نے کی۔ ابتدائی تعلیم گھرپرحاصل کی۔ گھر میں دینی اورمذہبی کتابوں کاذخیرہ ہونے کے سبب مذہب کامطالعہ خاصا وسیع تھا۔1902 میں جب17سال کی تھیں امجدی بانو کی شادی تحریک آزادی کے عظیم رہنما مولانا محمدعلی جوہرسے ہوئی جوان دنوں آکسفورڈ میں زیرتعلیم تھے۔ مولانا محمدعلی جوہرسے شادی کے بعد امجدی بانو پوری کی پوری انہی کے رنگ میں رنگ گئیں۔ مولانا عبدالماجددریاآبادی نے تحریر کی ہے’’امجدی بیگم ہرجلسہ، ہرسفراورخلافت کانفرنس میں مولانا کے ساتھ شریک رہتیں۔ انہوں نے آل انڈیا نیشنل کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس منعقدہ دسمبر1921میں احمدآباد میں یوپی کے نمائندہ کی حیثیت سے شرکت کی۔‘‘
بیگم مولانا محمدعلی جوہرکاسب سے بڑھ کارنامہ (بی اماں)مولانا محمدعلی جوہر کی والدہ کے ساتھ مل کر ہندوستان کی خواتین میں سیاسی بیداری پیدا کرنا تھا۔ وہ1917 کے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں شریک ہوئیں۔ ان کو1920میں آل انڈیا خلافت خواتین کمیٹی کا سیکریٹری منتخب کیا گیا۔اس دوران تحریک خلافت کے لئے بی اماں اوربیگم مولانا محمدعلی جوہر نے40لاکھ روپے کی رقم جمع کی۔ میلکم ہیلی نے قانون ساز اسمبلی میں مولانا محمدعلی جوہر کی فرد جرم گنتے ہوئے کہا کہ ان کے گھر کی عورتیں تک چندا جمع کرتی اورسورش برپا کرتی پھرتی ہیں۔ قومی محاذ پر ہندوستانی خواتین کی خدمت کے تذکرے میں29نومبر1921 کے ینگ انڈیا میں گاندھی نے امجدی بیگم کیلئے ایک بہادر خاتون کے عنوان سے خصوصی طور پر لکھا کہ بیگم مولانا محمدعلی جوہرکے ہمراہ کام کرتے ہوئے مجھے بہت اہم تجربات ہوئے ہیں گزشتہ سال انہوں نے پبلک کاموں میں اپنے شوہر کی مدد کرنا شروع کیا ابتدا سامرانا فنڈ کےلئے چندا کٹھا کرنے سے ہوئی۔ تب سے وہ ہمارے طویل اوردشوار ترین بہادر، آسام اوربنگال کے سفر میں بھی شریک رہیں۔ میںپورے وثوق سے کہہ سکتاہوں کہ ان میں تقریر کا ملکہ اپنے شوہر سے کسی طرح بھی کم نہیں۔ مدراس میں سمادار ساحل پر زبردست عوامی جلسہ ہوا انہوں نے اونچی آواز میں تقریر کی کہ میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکا کہ وہ بہادر شوہر کی بہادر بیوی ہیں۔
مولانامحمدعلی جوہر جب تک جیل میں رہے، ان کے کام جیل سے باہر ان کی والد ہ اوربیوی انجام دیتی رہیں۔1930 میں بیگم مولانا محمدعلی جوہر اپنے شوہر کے ساتھ لندن رائونڈ ٹیبل کانفرنس میں شریک ہوئیں بعد میں جب قائداعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم نو کی تو انہوں نے قائداعظم سے بھرپورتعاون کیا انہو ں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اورمسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کی رکن بھی منتخب ہوگئیں۔ ان کی مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد وہ ہزاروں کارکن بھی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے جو مولانا محمدعلی جوہر کے پرستار تھے۔1937 میں آل انڈیا مسلم لیگ کاسالانہ اجلاس منعقدہ لکھنو کے موقع پر خواتین جلسہ بیگم مولانا محمدعلی جوہر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مسلم لیگ نے اپنے سالانہ اجلاس دسمبر1938 منعقدہ پٹنہ میں جب خواتین مسلم لیگ قائم کی اور خواتین کی کمیٹی مقرر کی تو اس کمیٹی کی صدر وہی منتخب ہوئیں۔ آل انڈیا مسلم لیگ کےتحریک ساز اجلاس لاہور منعقدہ مارچ1940 کے موقع پر آل انڈیا خواتین مسلم لیگ کمیٹی کا سالانا اجلاس23مارچ1940کوحبیبیہ حال اسلامیہ کالج لاہور میں منعقد ہوا جس میں ہندوستان بھر کی ممتاز مسلم خواتین نے شرکت کی اوراس اجلاس میں ان کو خواتین کا رہنما اورپریذیڈنٹ چنا گیا۔
مارچ1940میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تحریکی اجلاس جس میں قرارداد لاہورپیش ہوئی تھی جو بعد میں قراردادپاکستان کے نام سے موصوم ہوئی بیگم مولانا محمدعلی جوہر نے نہ صرف یہ کہ سرگرمی سے حصہ لیا بلکہ وہ برصغیر کی واحدخاتون رہنما تھیں جنہوں نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئےقراردادکی بھرپورتائید کی تھی۔ تمام مقررین میں وہ واحد مقررہ تھیں جنہوں نے قرارداد لاہور کو’’قراردادپاکستان‘‘ کہا تھا1941 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ مدارس میں قرارداد لاہور کوقرارداد پاکستان ہی تسلیم کرلیاگیا تھا۔1946 کے عام انتخابات میں بیگم مولانا محمدعلی جوہر نے اہم کردارادا کیاتھااور وہ خود بھی یوپی کے ایک حلقہ سے آل انڈیا مسلم لیگ کے ٹکٹ پر بلا مقابلہ منتخب ہوئی تھیں لیکن بعد میں قسمت سے پاکستان کے قیام سے صرف چند ماہ قبل28مارچ1947 کوبیگم مولانا محمدعلی جوہر کاانتقال ہوگیا۔

Amjadi Begum with delegates at Muslim League Governing Council’s Lahore session.
Amjadi Begum addressing a meeting

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *