وزیراعظم ہاؤس نے عمران خان کے دورہ ایران پر دیئے گئے بیان پر وضاحت جاری کردی

پاکستانی سرزمین کا استعمال:وزیراعظم کا بیان سیاق وسابق سے ہٹ کر پیش کیا گیا

اسلام آباد:(پاکستان فوکس آن لائن)وزیراعظم ہائوس نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران پردیئے گئے بیان کی وضاحت جاری کردی۔ ترجمان وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پاکستانی سرزمین کے استعمال سے متعلق بیان پربحث کی جارہی ہے۔ وزیراعظم کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ترجمان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے نان اسٹیٹ ایکٹرز سے متعلق بات کی تھی۔وزیراعظم نے کہا تھا نان اسٹیٹ ایکٹرز بیرونی قوتوں کے اشاروں پر پاکستان میں کارروائی کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے کلبھوشن یادیو اورمقامی سہولت کاروں کی مثال دی اورپاکستان پرحملوں کےلیے ایرانی اورافغان سرزمین کے استعمال کی بات کی۔ وزیراعظم نے بیان بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد واقعے کے تناظر میں دیا۔ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم پورے خطے میں امن کےلیے اقدامات کررہے ہیں۔وزیراعظم کے بیان کا منفی تاثر دینا ملکی مفاد میں نہیں ہے۔
یاد رہے وزیراعظم عمران خان نے ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں خطے میں دہشتگردی کے انسداد کے حوالے سے گفتگو کی تھی۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے22اپریل کو تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی۔ عمران خان نے کہاتھا کہ دونوں ملکوں کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ دونوں ممالک کو دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایران کے حالات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے جب کہ دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ممالک کے لیے چیلنج ہے اور پاکستان دہشت گردی میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جب کہ خطے میں انصاف کے ذریعے ہی امن لایا جا سکتا ہے۔عمران خان نے دہشت گردی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا ایران آنے کا مقصد دہشت گردی کا مسئلہ ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان اور ایران میں دوریاں پیدا ہوئیں جنہیں اب ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ چند روز قبل بلوچستان میں ہمارے 14 اہلکار شہید ہوئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانیں قربان کی ہیں۔ ہم خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں جب کہ افغانستان بھی دہشت گردی سے متاثر ملک ہے۔ بھر پور فوجی طاقت کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکا جب کہ ہم بھی افغانستان میں سیاسی استحکام چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *