اقوام متحدہ کو کشمیریوں کو بچانے کیلئے آگے آنا ہوگا، شاہ محمود کا یواین سربراہ کو فون

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کردیا، وزیرخارجہ

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سربراہ سے کہا کہ عالمی ادارے کو کشمیریوں کی جانیں بچانے کیلئے آگے آنا ہوگا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جواب دیا کہ وہ اس معاملے پر بھارتی وزیراعظم سے بات کریں گے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انٹونیو گوٹیریز سے رابطہ ہوا ہے۔ یہ رابطہ شام 5 بجے ہوا ہے۔ یکطرفہ بھارتی اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی۔ انہیں دعوت دی کہ پاکستان اور کشمیر کا فوری دورہ کریں۔ سلامتی کونسل کے 5 مستقل ملکوں کوصورتحال سے مسلسل آگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے، کلسٹر بموں، پیلٹ گنز استعمال کی جا رہی ہیں۔ صورتحال خوفناک ہوتی جا رہی ہے جس پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے تشویش کا اظہار کیا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو بغاوت پر مجبور کر رہی ہے، خوف کے عالم میں چھپا ہوا انسان بھی ایک دن باہر آ جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کو کشمیری عوام کی جانوں کا تحفظ کے لیے فوری اقدام کرنا چاہیے۔ یو این جنرل سیکرٹری کو باور کرایا کہ جمعۃ المبارک کی نماز کے دوران رکاوٹ ڈالی گئی ہیں۔ بہت سی مساجد کو بند کیا گیا، شہری جو اقوام متحدہ کے دفتر جانا چاہتے تھے ان پر پیلٹ گنز، تشدد اور شدید شیلنگ کی گئی۔شاہ محمود کا کہنا تھا کہ دنیا کو پہلی بار یکم اگست، دوسری بار 6 اگست، تیسری بار 13 اگست اور آج 24 اگست کو چوتھی مرتبہ سیکرٹری جنرل کو بتایا کہ ہمیں خدشات ہیں کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ طرز کا کوئی ڈرامہ رچا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی نام نہاد جمہوریت نے فسطائیت کا عملی مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ آج سرینگر ایئر پورٹ پر راہول گاندھی کو باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔ راہول گاندھی کو اگلے جہاز سے واپس بھیج دیا گیا۔ اگر مقبوضہ کشمیر میں چھپانے کے لیے کچھ نہیں تھا تو راہول گاندھی کو جانے کی اجازت دیتے۔ کانگریس لیڈر کو پریس کانفرنس کے دوران گرفتار کیا گیا۔ بھارتی یکطرفہ اقدامات کوبھارتی اپوزیشن کے بہت سے رہنما بھی مسترد کرچکے ہیں۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور سخت ترین پابندی لگائی گئی ہیں۔ وادی میں صورتحال بہت خراب ہے۔ اقوام متحدہ کی ممبران سکیورٹی کونسل نے معاملات کی نزاکت کو بھانپ کر نشست منعقد کی۔ یو این ممبران چاہتے ہیں کہ امن کے ساتھ معاملہ حل کیا جائے، جو پاکستان بھی چاہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان 5 اگست کے فیصلے کو مسترد کر چکا ہے، یو این کی قرار دادوں کی بھی خلاف ورزی کی گئی، بھارتی سرکار ہمارے ساتھ بیٹھنے تو دور کی بات اپنی اپوزیشن کے ساتھ نہیں بیٹھ رہی۔شاہ محمود کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انٹونیو گوٹیریز کو کہا ہے کہ اقوام متحدہ مقبوضہ وادی کی تبدیلی میں اقوام متحدہ رکاوٹ بنے۔ میں سب کو دعوت دیتا ہوں کہ آزاد کشمیر میں کوئی آنا چاہتا ہے تو آئیں اور صورتحال دیکھیں اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کا مبصر مقبوضہ کشمیر میں بھی بھیجا جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور دنیا جان سکے وہاں کیا مظالم ہو رہے ہیں۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے بتایا کہ فرانس میں موجود ہوں، بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی بھی یہاں موجود ہیں، ان سے بات کروں گا، میں اپنا کردار ادا کروں گا۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *