غیرملکی افواج کو محفوظ راستہ دیا جائے گا، طالبان اور امریکا معاہدے کے قریب

دوحہ: (پاکستان فوکس آن لائن) امریکا اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دوحا میں امریکا کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں اور ممکنہ معاہدے کی تیاری کی جارہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ اتفاق رائے کے بعد عبوری مدت پر اتفاق کیلئے بین الافغان سطح پر مذاکرات کیے جائیں گے جس کی کامیابی کیلئے طالبان نے کوئی شرط عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان نے امریکا کو افغان سرزمین کو کسی کے خلاف حملے میں استعمال نہ کرنے کی ضمانت دی ہے، غیرملکی افواج کی واپسی کیلئے محفوظ راہداریاں فراہم کی جائیں گی۔یاد رہے کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے ہیں جبکہ امریکا کی جانب سے نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد مذاکرات کررہے ہیں۔
افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد دیگر فریقین کے درمیان بھی بات چیت ہوگی جس میں سب سے اہم مذاکرات طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات ہوں گے۔افغان طالبان پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ ابتدائی بات چیت کا عمل مکمل ہونے اور امریکہ کی جانب سے عالمی ضمانت کاروں کی موجودگی میں دستخط کیے جانے کے بعد وہ افغان حکومت سے مذاکرات کرسکتے ہیں۔امریکہ اور طالبان کے درمیان جس وقت امن معاہدے پر دستخط ہوں گے اس وقت فریقین کی رضامندی سے افغانستان میں جاری 18 سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہو جائے گا جو خطے کے حوالے سے نہایت خوش آئند ہو گا۔

1 thought on “غیرملکی افواج کو محفوظ راستہ دیا جائے گا، طالبان اور امریکا معاہدے کے قریب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *