ایران نے افزودہ یورینیم کی حد عبور کر لی،ایران آگ سے کھیل رہا ہے، امریکا

واشنگٹن: (پاکستان فوکس آن لائن) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورینیم کی افزودگی میں حد سے تجاویز کرنے پر ایران کو خبردار کیا ہے کہ ایران آگ سے کھیل رہا ہے۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے یورپی ممالک سے تہران پر اقتصادی پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا۔اس ضمن میں روس نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکی دباؤ کے پیش نظر جوہری معاہدہ متاثرہوا۔ برطانیہ نے تہران کو جوہری معاہدے سے ’مزید روگرانی برتنے سے گریز‘ کرنے کی ہدایت کی۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے ایران کو معاہدے کی پاسداری پر قائم رہنے پر زور دیا۔
واضح رہے کہ یکم جولائی کو ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ‘فارس کی رپورٹ میں کہا تھا کہ تہران نے یورینیم کی افزودگی کی 2015 کے جوہری معاہدے میں طے کی گئی 300 کلوگرام کی حد پار کرلی ہے۔معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی کی شرح 3.67 فیصد سے زائد نہ رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے نے کہا ہے کہ ایران نے 2015 کے عالمی جوہری معاہدے میں مقرر کی گئی کم افزودہ یورینیم کی مقررہ حد سے زیادہ یورینیم ذخیرہ کر لی ہے۔انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کے معائنہ کاروں نے تصدیق کر دی ہے کہ تین سو کلو کی جو حد طے کی گئی تھی ایران نے اسے عبور کر لیا ہے۔ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمتِ عملی جاری رہے گی۔‘ امریکی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کو کسی بھی سطح پر یورینیم کی افزودگی کی اجازت دینا ایک غلطی تھی۔
اس حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے واضح کیا تھا کہ یورینیم کی افزودگی سے اب پسپائی اختیار نہیں کی جا سکتی اور ہم غیر ملکی دباؤ کے آگے سر نہیں جھکاسکتے۔ایک سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ ’وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ کھیل رہے ہیں اور میرا خیال ہے وہ آگ سے کھیل رہے ہیں‘۔بعدازاں وائٹ ہاؤس نے مراسلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ’امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے‘۔اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ تہران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ ڈالا جائےگا۔
خیال رہے کہ جولائی 2015 میں ایران اور 6 عالمی قوتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد 2016 سے شروع ہوا تھا۔اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو روکنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا اور توانائی کے حصول کے لیے جوہری مواد کے استعمال کو بین الاقوامی جانچ کے حوالے کردیا تھا۔گزشتہ برس مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے سابق صدر کی جانب سے کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *