مہینوں تک عوام کو لاک ڈائون کرکے بند نہیں رکھا جاسکتا،اسدعمر

صرف صحت کا خیال رکھیں تو لوگوں سے روزگارچھن جاتاہے،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ 15کروڑ سے زیادہ لوگ انتہائی معاشی تکلیف سےگزر رہے ہیں، صرف صحت کاخیال رکھیں تو لوگوں سے روزگار چھن جاتاہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ بنیادی سٹریٹجی میں پہلے روز سے کوئی تبدیلی نہیں آئی،وبا کےپھیلاؤکوکم کرنا ہےاسے مکمل روکانہیں جا سکتا،کورونا کی رفتار میں اتنی کمی کرنی ہے کہ صحت کا نظام مفلوج نہ ہو،وبا کا پھیلاؤ روکنا ابھی بھی اولین ترجیح ہے،ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں کورونا اتنا مہلک نہیں، قومی پالیسیاں سب کچھ مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں،پاکستان میں ہر 10لاکھ میں سے 9افرادجاں بحق ہوئے، روزگار کمانے کا حق ضرور ہےمگرحفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ کابینہ میں فیصلہ ہوا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے ،زیادہ کیسز والے مقامات پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا،ملک میں 884مقامات پر لاک ڈاؤن ہے اور 2لاکھ کی آبادی اس کےزیراثر ہے،سب سے زیادہ وینٹی لیٹرز پر کام کرنا ضروری سمجھا ،100 سے زائد لیبز روزانہ 35ہزار ٹیسٹ کرسکتی ہیں، زیادہ تر چیزیں پاکستان میں بنارہے ہیں اورایکسپورٹ کر رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ طبی عملے کی سہولت کیلئے ایپ بنائی جا رہی ہے،ٹیسٹنگ کا نظام بہتربنانے کیلئے کام کیا،ملک میں وینٹی لیٹرزکی تعداد میں دگنا اضافہ ہو چکا ہے،ہیلتھ کیئرورکرز کی حفاظت کیلئے اقدامات کیےگئے،فرنٹ لائن ورکرز کیلئےسہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کاروبار روکا گیا تو لوگوں پرانتہائی تکلیف کا وقت آیا، 15 کروڑ سے زیادہ لوگ انتہائی معاشی تکلیف سے گزر رہے ہیں،صرف صحت کا خیال رکھیں تو لوگوں سے روزگارچھن جاتا ہے،حکومت نے تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج دیا،کورونا ریلیف فنڈ میں 40سے 60 لاکھ خاندانوں کوامداد دی،عالمی اداروں نے پاکستان کی ریلیف کی کوششوں کو سراہا،وبا کی رفتار میں کمی کرنا اولین ترجیح ہے، پاکستانی قوم نے بہت ڈسپلن کا مظاہرہ کیا،عید کے آخری دنوں میں مارکیٹوں میں تشویشناک صورتحال نظرآئی، صحت کا نظام بھی وسیع کرتے جا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *