ہر وقت وزیراعظم کے ساتھ چلنے والے اس بریف کیس میں دراصل کیا ہوتا ہے؟ جواب پاکستانی سوچ بھی نہیں سکتے

بی بی سی کے نمائندے کا عمران خان کے انٹرویو کے آخر پر حیرت انگیز دعویٰ

وزیراعظم عمران خان کے ساتھ موجود آفیسر جس نے بریف کیس اٹھایا ہوا ہے اس بریف کیس میں نیوکلئیر کوڈ ہے ـ بی بی سی نمائندے کا دعوٰی

اسلام آباد: (پاکستان فوکس آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز بی بی سی کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے پاک بھارت تعلقات سمیت اہم ایشوز پر گفتگو کی۔تاہم عمران خان کا یہ انٹرویو ایک چھوٹے سے کلپ کی وجہ سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔انٹرویوکے اختتام پر بی بی سی کے نمائندے نے یہ دعویٰ کیا کہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ بریف کیس اٹھائے ایک آفیسر جا رہا ہے دراصل اس بریف کیس میں نیوکلیئر کوڈ موجود ہے۔بی بی سی کے نمائندے کے اس حیران کن دعوے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو کا یہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔جان سمپسن کے اس دعوے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے اور پاکستانیوں کی جانب سے دلچسپ تبصروں کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن اس کیساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آگئی ہے کہ دراصل اس بریف کیس میں کیا ہوتا ہے البتہ اس معاملے پر بھی مختلف آراءپائی جاتی ہیں لیکن اس میں موجود چیز کا مقصد ایک ہی ہے۔انٹرویو کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو چند پاکستانی صارفین کی جانب سے اس کی حقیقت بھی بتائی گئی جس کے مطابق اس بریف کیس میں ایٹم بم کے کوڈ نہیں بلکہ ایک شیلڈ ہوتی ہے۔“

صحافی عباس ناصر نے ٹوئٹر پر لکھا ” بریف کیس میں ایک شیلڈ ہوتی ہے جسے ’بلاسٹ بلینکٹ‘ بولتے ہیں اور اسے اہم ترین شخصیات کی حفاظت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماءاور سابق وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے لکھا ”ان بریف کیسز میں دراصل جیمرز فٹ کئے ہوتے ہیں تاکہ بم دھماکے کیلئے استعمال ہونے والی کسی بھی ریموٹ ڈیوائس کو ناکارہ کیا جا سکے۔۔۔ ایٹم بم کے کوڈ ہونا تو صرف معمہ ہے“

سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو کم از کم یہ ضرور واضح ہو گیا ہے کہ وزیراعظم کے ساتھ رہنے والے شخص کے بریف کیس میں ایٹم بم کے کوڈ نہیں بلکہ وزیراعظم کی حفاظت کیلئے ایک شیلڈ ہے جسے بوقت ضرور کام لایا جا سکے البتہ جان سمپسن جیسے صحافی نے ایسا دعویٰ کیا کیوں؟ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے اور ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’مجھے بتایا گیا ہے۔‘ حالانکہ ایسی راز کی باتیں بھی بھلا کسی کو بتائی جاتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *